ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 111 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 111

کی مسلمان فوج میں ۶۰۰ اسپاہی تھے جن میں ۲۰۰ کے پاس سواریاں تھیں۔آپ کی بیگم حضرت ام سی بھی ساتھ تھیں۔آپ محرم کے میں مدینے سے روانہ ہوئے۔بچہ۔مدینہ میں امیر کن کو مقرر فرمایا۔ماں۔مدینہ کے امیر حضرت سباع بن عرفط غفاری کو مقرر فرمایا۔فوج کی روانگی کے وقت تین اصحاب کو جھنڈا عطا فرمایا۔راستے ہیں حضرت عامر بن اکوع نے اپنے شعر سنائے جن سے بہادری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے فوج میں چند خواتین بھی تھیں۔آپ نے اپنی فوج کا پڑاؤ رجیع مقام پر کیا جو غطفان اور خیبر کے درمیان ہے۔اس حکمت عملی سے غطفان والے خیبر والوں کی مدد کو نہ پہنچ سکے نماز عصر مقام صہبا میں ادا کی۔نہیں کھانا بھی کھایا جو پانی میں گھلے ہوئے سنتوں پر مشتمل تھا۔رات کے وقت خیر پہنچے مگر آپ رات کو حملہ نہیں کیا کرتے تھے صبح ہوئی تو جنگ شروع ہوئی سب سے زیادہ مزاحمت قلعہ قموص پر ہوئی جہاں مرحب ایک بہادر سپہ سالار لر رہا تھا۔بہت سے معزز صحابہ بہادری سے بڑے مگر کامیابی نہ ہوئی ایک دن شام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔کل میں اس شخص کو حکم دوں گا جس کے ہاتھ پر خدا فتح دے گا اور جو خدا اور خدا کے رسول کو چاہتا ہے اور خدا اور خدا کا رسول بھی اس کو چاہتے ہیں (صحیح بخاری)