حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 80 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 80

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 80 اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کو بغیر نمونہ کے پیدا کرنے والے جلال واکرام اور ایسی عزت والے جس کا قصد نہیں کیا جاسکتا۔میں تجھ سے اے اللہ ! اے رحمن! تیرے جلال اور تیرے چہرے کے نور کا واسطہ دے کر عرض کرتا ہوں کہ تو میری آنکھوں کو اپنی مقدس کتاب کے نور سے منور کر اور اسے میری زبان پر رواں کر دے اور میرے دل کو اس کے لیے وسعت دے اور اس کے ذریعہ میرا سینہ کو کھول دے اور اس کے ساتھ میرے بدن کو دھو دے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ تیرے سوا سچائی میں میری کوئی بھی مدد نہیں کر سکتا اور نہ تیرے سوا کوئی نعمت عطا کر سکتا ہے۔اللہ کے سوا کسی کو کوئی طاقت حاصل نہیں اور نہ ہی کوئی قوت رکھتا ہے۔اللہ ہی بلندشان والا اور عظمت والا ہے۔“ ( پھر فرمایا ) اے ابوالحسن! کم از کم تین جمعہ سے لے کر سات جمعہ تک اسی طرح کرو۔تمہاری دعا مقبول ہوگی اور اس ذات کی قسم جس نے مجھے بھیجا ہے، صحیح مومن کی دعارد نہیں کی جاتی۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پانچ یا سات جمعہ کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ اس طرح کی ایک مجلس میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔میرا حال تو یہ تھا کہ روزانہ چار آیتیں بھی یاد کرتا تو بھول جاتی تھیں اب یہ صورت ہے کہ ایک دن میں چالیس چالیس آیتیں بھی یاد کر لیتا ہوں اور جب دُہراتا ہوں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن آنکھوں کے سامنے ہے۔اس سے قبل احادیث کے متعلق بھی میرا یہی حال تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے کے بعد جب دُہراتا تو بھول چکی ہوتی تھیں۔لیکن اب صرف ایک مرتبہ سن کر کسی لفظ کی کمی بیشی کے بغیر پوری حدیث سنا سکتا ہوں۔یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔رب کعبہ کی قسم ! ابوالحسن (علی) پکا مومن ہے۔