حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 76
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 76 وہ اس کے مطالب کے مطابق امور سر انجام دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ہم نے تیری طرف یہ مبارک کتاب اتاری ہے تا کہ وہ اس کی آیات پر تدبر کریں۔آیات پر تدبر کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کا علم حاصل کرنے کے بعد اس کی پیروی کی جائے ( یعنی اس پر عمل کیا جائے)۔تدبر سے مراد یہ نہیں کہ محض اس کے حروف کو حفظ کر لیا جائے اور احکام کو ترک کر دیا جائے۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ خدا کی قسم میں نے ایک ہی دفعہ سارا قرآن پڑھ لیا ایک حرف بھی نہیں چھوڑا، حالانکہ اس نے سارا قرآن چھوڑ دیا کیونکہ قرآن کریم میں بیان کیے گئے اخلاق اور اعمال کا ذرہ بھر اثر اس میں نظر نہیں آیا۔اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو کہہ دیتے ہیں کہ میں ایک ہی سانس میں فلاں سورت پڑھ لیتا ہوں۔خدا کی قسم، یہ قرار نہیں اور نہ ہی علماء اور حکماء ہیں ، اور نہ ہی خدا کا خوف کرنے والے ہیں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: يَدْخُلُ فَسَقَةُ حَمَلَةِ الْقُرْآنِ النَّارَ قَبْلَ عَبْدَةِ الْأَوْثَانِ بِأَلْقَى عَامٍ۔(اللآلئ المصنوعة في الأحاديث الموضوعة للسيوطي، جزء اول صفحه 205) ترجمه فاسق حفاظ قرآن (یعنی قرآن کریم پر عمل نہ کرنے والے ) بت پرستوں سے دو ہزار سال قبل جہنم میں داخل ہوں گے۔