حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 75 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 75

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 75 قرآن کریم بھلا دینے والے حافظ کے لیے انذار: ا عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عليه وسلم مَا مِن امْرِءٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ يَنْسَاهُ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمَ۔(سنن ابی داؤد، کتاب الوتر، باب التشديد فيمن حفظ القرآن ثم نسيه) ترجمہ: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی قرآن کریم پڑھ کر بھلا دیتا ہے تو وہ قیامت کے دن الله عز وجل کے حضور اس حالت میں حاضر ہوگا کہ اس کی صورت بگڑی ہوئی ہوگی۔بغیر عمل کے حافظ قرآن کسی عزت کے لائق نہیں : قرآن کریم حفظ کرنے والا اللہ تعالیٰ کے حضور تب ہی قابل عزت ہوگا جب اس کے احکام یعنی اوامر و نواہی پر عمل کر رہا ہوگا۔قرآن کریم پر عمل کے بغیر حافظ قرآن خدا کے نزدیک کسی عزت کے لائق نہیں۔چنانچہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: عَنِ الْحَسَنِ يَقُوْلُ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ قَدْ قَرَأَهُ صِبْيَانٌ وَعَبِيْدٌ لَا عِلْمَ لَهُمْ بِتَأْوِيْلِهِ وَلَمْ يَأْتُوا الْأمْرَ مِنْ قِبَلِ أَوَّلِهِ وَقَالَ كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوْا آيَاتِهِ۔وَمَا تَدَبُّرُ آيَاتِهِ إِلَّا اتِّبَاعِهِ بِعِلْمِهِ وَاللَّهُ مَا هُوَ بِحِفْظِ حَرُوْفِهِ وَإِضَاعَةِ حَدُوْدِهِ حَتَّى أَنَّ أَحَدَهُمْ لَيَقُوْلُ وَاللَّهِ لَقَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ كُلَّهُ وَمَا أَسْقِطْ مِنْهُ حَرْفًا وَاحِدًا وَقَدْ أَسْقَطَهُ كُلَّهُ مَا تَرَى لَهُ فِي الْقُرْآنِ مِنْ خُلُقٍ وَّلَا عَمَلٍ وَحَتَّى أَنَّ أَحَدَهُمْ لَيَقُوْلُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَقْرَأُ السُّوْرَةَ فِي نَفْسٍ وَاحِدٍ وَاللَّهُ مَا هَؤُلَاءِ بِالْقُرَاءِ وَلَا الْعُلَمَاءِ وَلَا الْحُكَمَاءِ وَلَا الْوَرَعَةِ۔(مصنف عبد الرزاق، كتاب الصيام، باب سلسلة الشياطين وفضل رمضان، جزء4 صفحه 175) | ترجمہ: حضرت حسن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس قرآن کو بچے اور غلام سب ہی پڑھتے ہیں، لیکن وہ اس کی تاویل ( مطالب اور مفہوم ) سے بے خبر ہوتے ہیں اور نہ