حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 48 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 48

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 48 ہوتی ہے۔پس دعا مانگنے والے پر منحصر ہے کہ چاہے تو وہ دنیا میں ہی مانگ لے، اور چاہے تو اس کو آخرت تک مؤخر کر دے۔حفاظ کو دیکھ کر اللہ کا غضب رضا میں بدل جاتا ہے۔حافظ قرآن پر اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظریں پڑتی ہیں اور اللہ تعالی کا غضب بھی محبت بن کر بہنے لگتا ہے۔چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيَغْضِبُ فَتَسْلِمُ الْمَلَائِكَةُ لِغَضْبِهِ فَإِذَا نَظَرَ إِلَى حَمَلَةِ الْقُرْآنِ تَمْلأُ رَضًا (فردوس الأخبار الديلمي - عن ابن عمر ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ جب غضب ناک ہوتا ہے تو فرشتے اس حالت میں بھی فرماں برداری کرتے ہیں لیکن حاملین قرآن کریم یعنی حفاظ کرام کو دیکھتے ہی اللہ تعالیٰ کا غضب جاتا رہتا ہے اور غضب کی جگہ اس کی رضالے لیتی ہے۔حافظ قرآن قابل رشک ہے: مختلف انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے مختلف طاقتیں، قو تیں اور خوبیاں عطا کی ہوتی ہیں جن کو دیکھ کر دوسرے لوگ ان سے حسد کرنے لگتے ہیں۔حسد کرنے والوں میں کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو ان خوبیوں کو اپناتے ہیں اور کچھ لوگ خواہ مخواہ ان خوبیوں کے مالک افراد کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو جاتے ہیں۔اسلام میں حسد کو جائز قرار نہیں دیا گیا بلکہ ایسی آگ سے اس کو تشبیہ دی گئی ہے جو نیکیوں اور خوبیوں کو ایسے کھا جاتی ہے جیسے آگ خشک لکڑیوں کو جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔چنانچہ کسی بھی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے انسان سے اس کی خوبیوں کی وجہ سے حسد کرے ہاں بعض خوبیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو دیکھ کر انسان کو چاہئے کہ وہ خوبیاں اپنے اندر پیدا کرے۔یہاں پر حسد سے مراد رشک ہوتا ہے جب پرح انسان دوسرے کی خوبیاں دیکھ کر سوچتا ہے کہ یہ خوبیاں اس کے اندر بھی پیدا ہونی چاہئیں اور یہ رشک