حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 18
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 18 قرآن کریم ہی کلام الہی ہے: خدائے رحمان نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو قرآن کریم کے حفظ کے ساتھ مخصوص فرمایا، سابقہ امتیں اپنی مذہبی کتب کو صرف درسا پڑھ سکتی تھیں اور وہ کتب بھی صرف ایک ایک نسخے پر مشتمل ہوتی تھیں باوجود اس کے کہ وہ چند صفحوں پر مشتمل ہوتی تھیں پھر بھی اپنے وقت کے نبی کے علاوہ ان کا کوئی حافظ نہیں ہوتا تھا۔زندگی کے اہم قواعد وضوابط پر مشتمل پہلی کتاب یعنی تو رات کو بھی سال میں صرف ایک دن یعنی عید فسح کے موقع پر مجمع عام میں سند یا جاتا تھا، یہاں تک کہ تورات کا قلمی نسخہ کم ہو گیا۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تو چونکہ تو رات ان کو حفظ تھی اس لیے انہوں نے اس گم شدہ تو رات کو جو دنیا سے ناپید ہو چکی تھی اپنے حافظے کی مدد سے سنایا اور محفوظ کروایا۔یہ اتنا بڑا کارنامہ تھا جس پر یہودی حیرت زدہ ہو گئے اور یہ دعوی کر دیا کہ حضرت عزیر علیہ السلام (نعوذ باللہ ) اللہ کے بیٹے ہیں کیونکہ وہ تو یہی سمجھتے تھے کہ تو رات کا حافظے کی مدد سے من وعن سنا دینا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔قرآن کریم تو رات کی نسبت ضخامت میں بھی بڑی کتاب ہے نیز دیگر کتب وصحف سابقہ کے تمام مضامین اور جدید احکام الہیہ پر بھی مشتمل ہے۔اس لحاظ سے سابقہ کتابوں کے حجم سے بھی زیادہ ہے۔قرآن عظیم کا یہ اعجاز ہے کہ امت محمدیہ کا چھوٹا سا بچہ بھی قرآن پاک کا حافظ بن جاتا ہے اور پورا قرآن یاد سے سنا دیتا ہے۔علامہ حسن بصری فرماتے ہیں : أُعْطِيَتُ هَذِهِ الْأُمَّةُ الْحِفْظُ وَكَانَ مَنْ قَبْلَهَا لَا يَقْرَءُ وُنَ كِتَابَهُمْ إِلَّا نَظَرًا فَإِذَا أَطْبَقُوهُ لَمْ يَحْفَظُوا مَا فِيهِ إِلَّا النَّبِيُّونَ۔(تفسیر قرطبی- سورة العنكبوت، آیت 49- جلد 17 صفحه 87۔88) حفظ ( کتاب) صرف اس امت محمدیہ ہی کو عطا ہوا ہے اور امم سابقہ اپنی کتاب کو صرف ناظرہ ہی پڑھا کرتی تھیں اور جب کتاب کو بند کر دیا کرتیں تو سوائے انبیا کے اور کسی کو بھی اس کتاب کے مضامین مستحضر نہ ہوتے تھے۔اور یہ بھی کہا گیا :