حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 14
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 14 باب اول حفظ قرآن کی فضیلت واہمیت قرآن کتاب رحماں سکھلائے راہِ عرفاں جو اس کے پڑھنے والے اُن پر خدا کے فیضاں قرآن کریم کو تمام دیگر الہامی کتب کے مقابل پر بہت سی امتیازی خصوصیات حاصل ہیں۔قرآن کریم وہ زندہ جاوید کلام ہے جس کی حفاظت کا وعدہ خود خدائے لم یزل نے کیا ہے۔قرآن کریم کی یہ بہت بڑی فضیلت اور امتیازی خصوصیت ہے کہ امت مسلمہ میں آج تک لکھوکھ ہا لوگوں نے اسے حفظ کرنے کی سعادت پائی اور آج بھی ہزاروں افراد کے سینوں میں محفوظ ہے جبکہ دیگر مذاہب کی کتب مثلاً تو رات اور انجیل وغیرہ کو حفظ کرنے والا دنیا میں کوئی موجود نہیں۔ان کی تو الہامی حیثیت بھی صحیح طرح سے قائم نہیں رہی۔قرآن کریم واحد الہامی کتاب ہے جو ہر قسم کی اندرونی و بیرونی تحریف سے محفوظ چلی آرہی ہے۔اس کی آیات، الفاظ ، نقاط حتی کہ شعشہ تک بھی تبدیل نہیں ہوا، نہ ہوسکتا ہے۔حامل وحی قرآن حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم سیکھنے اور سکھانے والے کو بہترین وجود قرار دیا ہے۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: خَيْرُ كُمْ مَّنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَ عَلَّمَهُ (بخاری - کتاب فضائل القرآن باب خيركم من تعلم القرآن کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو خود بھی قرآن کریم سیکھتا ہے اور دوسروں کو بھی سکھاتا ہے۔اور ایسے شخص کے بارہ میں جس کو قرآن کریم کا چھوٹا سا حصہ بھی زبانی یاد نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ (ترمذی - کتاب فضائل القرآن باب فيمن قرء حرفاً من القرآن)