حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 192
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 192 تلاوت قرآن کریم کے آداب کے بارے میں نصیحت کرتے ہوئے حضرت خلفیہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”جو تلاوت کریں اس کا سمجھنا بھی ضروری ہے تبھی تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا کہ میں نے ضمنا پہلے بھی ذکر کیا تھا لیکن تفصیلی حدیث یہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم کی تلاوت ایک ماہ میں مکمل کیا کرو۔( بخاری کتاب فضائل القرآن ) تا کہ آہستہ آہستہ جب پڑھو گے ،غور کرو گے سمجھو گے تو گہرائی میں جا کر اس کے مختلف معانی تم پر ظاہر ہوں گے لیکن انہوں نے کہا کہ میرے پاس وقت بھی ہے اور اس بات کی استعداد بھی رکھتا ہوں کہ زیادہ پڑھ سکوں تو آپ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے پھر ایک ہفتہ میں ایک دور مکمل کر لیا کرو اس سے زیادہ نہیں۔تو آپ صحابہ رضی اللہ عنہم کو سمجھانا چاہتے تھے کہ صرف تلاوت کر لینا، پڑھ لینا کافی نہیں۔انسان جلدی جلدی پڑھنا شروع کرے تو دس گیارہ گھنٹے میں پورا قرآن پڑھ سکتا ہے لیکن اس میں سمجھ خاک بھی نہیں آئے گی۔بعض تراویح پڑھنے والے حفاظ اتنا تیز پڑھتے ہیں کہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ کیا الفاظ پڑھ رہے ہیں۔جماعت میں تو میرے خیال میں اتنا تیز پڑھنے والا شاید کوئی نہ ہو لیکن غیر از جماعت کی مساجد میں تو 18-20 منٹ میں یا زیادہ سے زیادہ آدھے گھنٹے میں ایک پارہ بھی پڑھ لیتے ہیں اور دس گیارہ رکعت نفل بھی پڑھ لیتے ہیں۔تو اتنی جلدی کیا خاک سمجھ آتی ہوگی۔تلاوت کرنے کی بھی ہر ایک کی اپنی استعداد ہوتی ہے اور اندازہ ہوتا ہے۔کوئی واضح الفاظ کے ساتھ زیادہ جلدی بھی پڑھ سکتا ہے۔کچھ زیادہ آرام سے پڑھتے ہیں لیکن ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ تلاوت سمجھ کر کرو۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ورتل القرآن ترتيلا (المزمل : 4 ) کہ قرآن کو خوب نکھار کر پڑھا کرو۔اب جس نے 20-18 منٹ میں یا آدھے گھنٹے میں نماز پڑھانی ہے اور قرآن کریم کا ایک پارہ بھی ختم کرنا ہے اس نے کیا سمجھنا ہے اور کیا نکھارنا ہے۔“ الفضل انٹر نیشنل 11 تا 17 نومبر 2005ء) |