حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 191
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 191 بچوں کو خصوصیت سے اور بڑوں بھی وہ آیات یاد کر لینی چاہئیں۔جن کو میں نمازوں میں تلاوت کرتا ہوں اور اکثر میں فجر ، مغرب اور عشاء کی نمازوں میں بدل بدل کر تلاوت کرتا ہوں۔یہ آنتیں جو میں نے چینی ہیں کسی مقصد کے لئے چنی ہیں۔“ الفضل انٹرنیشنل 7 جون (1996 حضور انور رحمہ اللہ تعالیٰ کی منتخب کردہ وہ آیات کتابی شکل میں آیات الکتاب" کے نام سے شائع ہو چکی ہیں اور خدام الاحمدیہ کے لائحہ عمل میں بھی شعبہ تعلیم کے تحت درج کر دی گئی ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے MTA کے ذریعہ ساری دنیا میں قرآنی تعلیم اور اس کے نور کو پھیلایا اور ہمارے گھروں میں نور کی شمعیں روشن کیں۔آپ کی ذات اللہ ، اللہ کے رسول اور اللہ کے کلام کی محبت سے سرشار تھی۔قرآن کریم کی تفسیر ہو یا ترجمہ، تلاوت قرآن میں با قاعدگی ہو یا صحت تلفظ سے پڑھنا ، اشاعت قرآن کا میدان ہو یا دنیا کی مختلف زبانوں میں تراجم، غرض اس عاشق قرآن نے خدمت قرآن کا کوئی پہلو تشنہ نہ چھوڑا، اور اپنے نمونے سے جماعت کو راہنما اصول مہیا فرمائے۔ا حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی اور حفظ قرآن کریم حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز قرآن کریم پڑھنے کی برکت کے بارے میں ایک حدیث بیان فرماتے ہیں: روایت میں آتا ہے کہ جس نے ایک رات میں پچاس آیات قرآن تلاوت کیں وہ حفاظ قرآن میں شمار ہوگا۔(سنن دارمی، کتاب فضائل القرآن) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ خطبہ جمعہ 24 ستمبر 2004 میں فرماتے ہیں: ہر احمدی کو اس بات کی فکر کرنی چاہیے کہ وہ خود بھی اور اس کے بیوی بچے بھی قرآن کریم پڑھنے اور اس کی تلاوت کرنے کی طرف توجہ دیں۔پس بچوں کو بھی قرآن کریم پڑھنے کی عادت ڈالیں اور خود بھی پڑھیں۔ہر گھر سے تلاوت کی آواز آنی چاہیے۔“ الفضل ، خلافت جوبلی نمبر 3 دسمبر 2008 ، صفحه (145)