حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 188
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 188 حضرت خلیفة امسیح الثاني نور الله مرقدة فیصلہ کن الفاظ میں قرآن کریم کی حفاظت کے الہی وعدہ کے ثبوت میں بڑے جلالی انداز میں فرماتے ہیں: آج اگر بائبل کے سارے نسخے جلا دیے جائیں تو بائبل کے پیرو اس کا بیسواں حصہ بھی دوبارہ جمع نہیں کر سکتے لیکن قرآن مجید کو یہ فخر حاصل ہے کہ اگر سارے نسخے قرآن مجید کے دنیا سے مفقود کر دیے جائیں تب بھی دو تین دن کے اندر مکمل قرآن مجید موجود ہو سکتا ہے اور بڑے شہر تو الگ رہے ہم قادیان جیسی چھوٹی بستی میں اسے فورا حرف بہ حرف لکھوا سکتے ہیں۔“ (تفسیر کبیر جلد چهارم صفحه 18 ، زیر تفسير سورة الحجرآيت (10) | حضرت خلیفہ امیج الثالث رسالہ فعال اور حفظ قرآن کی تحریک: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تیسرے خلیفہ حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ جنہوں نے مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوتے ہی سب سے زیادہ توجہ قرآن کریم کی تعلیم کو فروغ دینے کی طرف دی۔قرآن کریم کی برکات اور اہمیت پر آپ نے متعدد معرکۃ الآرا خطبات دیے۔تمام احمدی جماعتوں کو قرآن کریم سکھانے کے لئے مرکز میں ”ایڈیشنل نظارت تعلیم القرآن و وقف عارضی“ کے نام سے ایک الگ نظارت قائم فرمائی تا کہ منظم رنگ میں پوری جماعت کو قرآنِ کریم کی تعلیم دی جا سکے۔اپنے دور خلافت میں علم قرآن بلند کرنے والے یہ امام بھی حافظ قرآن تھے۔آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے جہاں قرآن کریم پڑھنے، پڑھانے اور اس پر غور و تدبر کرنے کی تلقین فرمائی ، وہاں تعلیم القرآن کے لیے وقف عارضی کی تحریک بھی جاری فرمائی اور قرآن کریم کو حفظ کرنے کے سلسلہ میں بھی خدام کو ارشاد فرمایا کہ وہ قرآن مجید کا ایک ایک پارہ حفظ کریں۔جب ایک پارہ حفظ ہو جائے تو دوسرا پارہ حفظ کیا جائے اس سکیم سے حضور کا مقصد قرآن کریم کے زیادہ سے زیادہ حفاظ تیار کرنا تھا۔چنانچہ خدام الاحمدیہ نے کما حقہ عمل کرنے کی کوشش کی اور مجلس خدام الاحمدیہ نے ایک ایک پارہ حفظ کرنے کی سکیم تیار کی۔بعد میں اس کا جائزہ بھی لیا جاتا رہا اور جن خدام نے ایک ایک پارہ حفظ کر لیا تھا ان کے اسما