حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 187
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 187 چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کی توجہ اور ہدایات کے تابع جماعت احمدیہ میں حفظ قرآن کی سکیم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔آپ کے دور خلافت میں 1920 ء سے قبل حافظ کلاس کا آغاز ہوا۔حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ( خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ ) نے بھی اسی کلاس سے قرآن کریم حفظ کیا تھا۔آپ کے ساتھ بارہ طلباء اس حفظ کلاس میں حفظ کر رہے تھے۔(بحواله قادیان گائیڈ، مؤلفه محمد یا مین صاحب تاجر کتب قادیان) حضرت خلیق اسی اثنی نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: عام طور پر یورپین مصنف اپنی نا واقفی کی وجہ سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ جبکہ دنیا میں بائبل کا کوئی حافظ نہیں ملتا تو قرآن شریف کا کوئی حافظ کہاں ہوسکتا ہے حالانکہ قرآن کریم کا یہ مزہ ہے کہ وہ ایسی سریلی زبان میں نازل ہوا ہے کہ اس کا حفظ کرنا نہایت ہی آسان ہے۔میرا بڑا لڑ کا ناصر احمد (حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ ) جو آکسفورڈ کا بی اے آنرز اور ایم اے ہے۔میں نے اسے دنیاوی تعلیم سے پہلے قرآن کریم کے حفظ پر لگایا اور وہ سارے قرآن کا حافظ ہے۔“ (دیباچه تفسیر القرآن، صفحه (277) مزید فرماتے ہیں: ” قرآن کریم کی خدمت اور اس کی حفاظت ظاہری کا کام حفاظ اور قراء کے سپرد ہے۔وہ قرآن کریم کے خادم ہیں اور اس کی حفاظت کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔جس طرح مہر کی غرض یہ ہوتی ہے کہ کوئی چیز باہر سے اندر داخل نہ ہو اور کوئی چیز اندر سے باہر خارج نہ ہو۔اسی طرح اس آیت میں یہ بتایا تھا کہ قرآن کریم کی خدمت پر ایسے انسان مقرر کیے جائیں گے جو مشک کی طرح خوشبو دار ہوں گے۔یعنی وہ اعلیٰ درجہ کے نیک ، اپنی ذمہ داری کو سمجھنے والے اور قرآن کریم کی حفاظت کا حق ادا کرنے والے ہوں گے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ چودہ سو سال گزر چکے ہیں مگر کوئی زمانہ ایسا نہیں ہوا جس میں حفاظ کی ایک بڑی بھاری جماعت دنیا میں موجود نہ ہو اور قرآن کی خدمت نہ کر رہی ہو۔(تفسير كبير، جلد هشتم صفحه 320 |