حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 179
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 179 عمر بھر یا در ہے گا، حتی کہ احمدی جماعت کے تاجروں کا صبح سویرے اپنی اپنی دکانوں اور احمدی مسافر مقیم مسافر خانے کی قرآن خوانی بھی ایک نہایت پاکیزه سین (منظر ) پیدا کر رہی تھی، گویا صبح کو مجھے یہ معلوم ہوتا تھا کہ قدوسیوں کے گروہ در گروہ آسمان سے اتر کر قرآن مجید کی تلاوت کر کے بنی نوع انسان پر قرآن مجید کی عظمت کا 66 سکہ بٹھانے آئے ہیں۔غرض احمدی قادیان میں مجھے قرآن ہی قرآن نظر آیا۔“ (البدر، 13 مارچ 1913ء صفحه 7،6 ) | حضرت مسیح موعود" کے 313 رفقائے خاص میں جو حافظ قرآن تھے ان کے اسماء درج ہیں: حضرت حافظ حکیم مولوی نورالدین صاحب نور الله مرقدة (خلیفة اسح الاول) آف بھیرہ ، حضرت حافظ مولوی فضل دین صاحب آف کھاریاں، حضرت حافظ حکیم مولوی فضل دین صاحب آف بھیرہ، حضرت حافظ حاجی مولوی احمد اللہ خاں صاحب قادیانی ، حضرت حافظ نور محمد صاحب فیض اللہ چک ضلع گورداسپور ، جناب حافظ فضل احمد صاحب آف لاہور، حضرت حافظ مولوی محمد یعقوب خان صاحب آف ڈیرہ دون، حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب آف لاہور ( آپ کے خاندان کے سب لڑکے اور لڑکیاں حافظ قرآن تھے )، حضرت حافظ محمد بخش صاحب آف کوٹ قاضی ، حضرت حافظ نوراحمد صاحب آف لدھیانہ، حضرت حافظ مولوی احمد دین صاحب آف چک سکندر ضلع گجرات ، حضرت حافظ محمدسعید صاحب آف بھیرہ ، حضرت حافظ مولوی محمد صاحب آف بھیرہ (خلیفہ مسیح الاول کے بھتیجے ، حضرت حافظ مولوی فضل دین صاحب آف خوشاب، حضرت حافظ شیخ الہ دین صاحب بی اے آف جھاوریاں، حضرت حافظ غلام محی الدین صاحب آف بھیرہ۔(مأخوذ از 313- اصحاب صدق وصفاء مؤلفه نصرالله خان ناصر، عاصم جمالی ) حضرت مسیح موعود کے بعض رفقاء کے عشق قرآن کریم کے چند ایمان افروز واقعات درج ہیں۔حضرت حافظ روشن علی صاحب رفیق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قرآن کریم کے حوالے سے رفقا میں ایک منفرد مقام تھا۔آپ میں یہ ملکہ بھی پایا جاتا تھا کہ کسی بھی مضمون کے متعلق قرآن کریم سے فوراً متعلقہ آیت نکال دیا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ آپ کے اسی کمال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” حافظ صاحب میں یہ بڑا کمال تھا کہ انہیں جب بھی کوئی مضمون بتا دیا جاتا وہ اس