حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 162 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 162

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 162 حفظ قرآن پر اعتراض کا جواب حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قرآن کریم کے حفظ کرنے پر بھی بعض کند ذہن لوگوں نے اعتراضات اٹھائے ہیں کہ قرآن کریم کو حفظ کرنا ایک فضول اور تضیع اوقات کا موجب فعل ہے۔ان نام نہاد علماء میں سے ایک بزعم خود عالم ابن وراق صاحب ہیں ، وہ اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں: " Both Hugronje and Gullliaume point to the mindless way children are forced to learn either parts of or the entire Koran (some 6,200 odd verses) by heart at the expense of teaching children critical thought: "[The Children] accomplish this prodigious feat at the expense of their reasoning faculty, for often their minds are so stretched by the effort of memory that they are little good for serious thought۔" (Ibn Warraq: Why I am Not A Muslim,prometheus books,new york, 1995, under heading;The koran:pg105) ابن وراق کے اس اعتراض کا لب لباب یہ ہے کہ سارا قرآن فضول طریق پر بچوں کو زبانی یاد کروایا جاتا ہے۔اس کوشش سے بچے کا ذہن متاثر ہوتا ہے اور وہ کسی قابل ذکر سنجیدہ کام کے قابل نہیں رہتا اور معاشرے میں مفید وجود بننے کی بجائے ناکارہ وجود بن کر رہ جاتا ہے۔یہ اعتراض تعصب اور حسد کا نتیجہ ہے کیونکہ یہ ایک جانی مانی حقیقت ہے کہ انسانی قوی ورزش اور مشق سے مضبوط اور قوی ہوتے ہیں اور انہیں جتنا استعمال کیا جائے ان کی صلاحیت میں اتنا ہی اضافہ ہوتا ہے۔عربوں کے حافظہ کو ہی دیکھ لیں اس غیر معمولی