حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 124
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 124 ”ہر رمضان میں ساری دنیا کی ہر بڑی مسجد میں سارا قرآن کریم حافظ لوگ حفظ سے بلند آواز کے ساتھ ختم کرتے ہیں۔ایک حافظ امامت کراتا ہے اور دوسرا حافظ اس کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے تا کہ اگر کسی جگہ بھول جائے تو اس کو یاد کرائے۔اس طرح (اس ایک ماہ میں ہی ساری دنیا میں لاکھوں جگہ پر قرآن کریم صرف حافظہ سے دہرایا جاتا ہے۔(دیباچه تفسير القرآن ، صفحه : 277) یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں قرآن کریم کا ایک دور تو حضرت جبرائیل کے ساتھ کرتے۔اس کے علاوہ بھی کئی مرتبہ قرآن کریم پڑھتے اور اس کے دور مکمل فرماتے تھے۔پس رمضان کے بابرکت ایام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر حافظ قرآن کو قرآن کریم کا رمضان میں کم از کم ایک دور ضرور کرنا چاہیے۔اور خاص توجہ کے ساتھ قرآن کریم کو نماز تراویح میں سنانا چاہیے اور ایک دور تراویح میں ضرور عمل کرنا چاہیے۔اس کے لیے اچھی اور بھر پور تیاری ہونی چاہئے بیچ معنوں میں اس سے ہی اس کا حفظ صیح اور پختہ رہے گا۔حضرت خلیفۃ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: "رمضان ایک خاص اہمیت رکھنے والا مہینہ ہے۔جس شخص کے دل میں اسلام اور ایمان کی قدر ہوتی ہے، وہ اس مہینہ کے آتے ہی اپنے دل میں ایک خاص حرکت اور اپنے جسم میں ایک خاص قسم کی کپکپاہٹ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔کتنی ہی صدیاں ہمارے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان گزر جائیں۔۔۔لیکن جس وقت رمضان کا مہینہ آتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان صدیوں اور سالوں کو اس مہینہ نے لپیٹ لپاٹ کر چھوٹا سا کر کے رکھ دیا ہے۔اور ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گئے ہیں۔بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی قریب نہیں چونکہ قرآن خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اس لیے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس فاصلے کو رمضان نے سمیٹ سماٹ کر ہمیں خدا تعالیٰ کے قریب پہنچادیا ہے۔“ ،، (تفسير كبير جلد دوم صفحه (343