حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 123 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 123

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 123 رمضان المبارک اور قرآن کریم اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ (البقرة : 186) ترجمه: رمضان کا مہینہ وہ (مبارک مہینہ) ہے جس میں قرآن کریم انسانوں کے لیے عظیم ہدایت کے طور پر اتارا گیا اور ایسے کھلے نشانات کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔ماہِ رمضان کا قرآن کریم سے گہرا تعلق ہے اور حفاظ کا رمضان اور قرآن سے ایک خاص تعلق ہے۔یہ با برکت مہینہ حفاظ کے لیے خصوصاً بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔حفاظ کے لیے یہ ایک قسم کا ریفریشر کورس ہے۔اس سے فائدہ اٹھا کر حفاظ اپنا حفظ صحیح اور پختہ رکھ سکتے ہیں۔اس میں حفاظ کرام کے حفظ کو قائم اور پختہ رکھنے کے لیے حیرت انگیز انتظام فرما دیا گیا ہے۔حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں قرآن کریم کا ایک دور حضرت جبرائیل کے ساتھ مکمل فرماتے۔(بخاری ، کتاب فضائل القرآن، باب كان جبريل يعرض القرآن على النبي ) سال میں ایک مرتبہ رمضان المبارک میں قرآن کریم کا کم از کم ایک دور کرنے کی عادت بہت مبارک ہے جو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع میں آپ کے زمانہ سے چلی آرہی ہے، اس کے علاوہ نفل نماز میں بھی قرآن کریم کا ایک دور ہے۔یہ مبارک عادت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں نماز تراویح کی شکل میں با قاعدہ جاری ہے۔صدیوں سے اس پر عمل ہو رہا ہے کہ ماہ رمضان میں دنیا کی بڑی مسجد میں حفاظ کرام امامت کرتے ہیں اور قرآن کریم سناتے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: