حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 116
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 116 شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلهُ إِلَّا هُوَ وَ الْمَلَائِكَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ۔(آل عمران: 19) ترجمہ: اللہ گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے بھی اور علم والے بھی انصاف پر قائم ہوتے ہوئے یہی گواہی دیتے ہیں۔اس کے جواب میں اقرار کیا جائے وَ اَنَا اَشْهَدُ بِہ۔کہ میں بھی گواہ ہوں اے میرے رب! تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔سورۃ بنی اسرائیل آیت 122 میں فرمایا: وَكَبِّرُهُ تَكْبِيرًا کہ تو اس (خدا) کی اچھی طرح بڑائی بیان کر۔اسکے جواب میں اللہ اکبر کہا جائے کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔قرآن کریم کی سورۃ احزاب آیت نمبر 57 میں فرمایا : إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔کہ یقیناً اللہ تعالیٰ اس نبی پر رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے بھی اس کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔اے مومنو! تم بھی اس نبی پر درود بھیجتے رہو اور دعائیں کرتے رہو اور اس کے لئے سلامتی مانگتے رہو۔اس آیت کے سننے یا پڑھنے پر اس کے جواب میں نماز والی درود پڑھی جائے یا کم از کم دلی محبت اور چاہت کے ساتھ اس طرح دعا کی جائے: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ۔(آمین) کہ اسے نبی تجھ پر اللہتعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔اے اللہ مصلی اللہ علیہ وسلم ر رحمتیں اور برکتیں نازل فرما۔(آمین) سورۃ یسین آیت نمبر 79 اور 80 میں فرمایا: