ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 44

44 ہدایات زریں نے ارادہ کیا تھا وہ ایک تو لمبی تھی اور دوسرے ممکن تھا کہ علمی لحاظ سے وہ ایسی مشکل ہو جاتی کہ ہمارے دیہاتی بھائی اسے نہ سمجھ سکتے۔تو خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ دل میں ڈالا جاتا ہے وہ بہت جامع اور نہایت زود فہم ہوتا ہے اور اس کا اثر جس قدر سننے والوں پر ہوتا ہے اتنا کسی لمبی سے لمبی تقریر کا بھی نہیں ہوتا۔پس تم یہ حالت پیدا کرو کہ جب تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہو تو بالکل خالی الذہن ہو اور خدا تعالیٰ پر تمہارا سارا مدار ہو۔اگر چہ یہ حالت پیدا کر لینا ہر ایک کا کام نہیں ہے اور بہت مشکل بات ہے۔لیکن ہوتے ہوتے جب اس کی قابلیت پیدا ہو جائے تو بہت فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔تیر ہوئیں ہدایت تیرہویں بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ کسی پارٹی میں اپنے آپ کو داخل نہ سمجھے۔بلکہ سب کے ساتھ اس کا ایک جیسا ہی تعلق ہو۔یہ بات صحابہ میں بھی ہوتی تھی کہ کسی سے محبت اور کسی مناسبت کی وجہ سے زیادہ تعلق ہوتا تھا اور وہ دوسروں کی نسبت آپس میں زیادہ تعلق رکھتے تھے۔اور ہم میں بھی اس طرح ہے اور ہونی چاہئے لیکن جو بات بری ہے اور جس سے مبلغ کو بالا رہنا چاہئے یہ ہے کہ وہ کسی فریق میں اپنے آپ کو شامل کر لے۔ہر ایک مبلغ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاظل ہے اور ظل وہی ہو سکتا ہے جس میں وہ باتیں پائی جائیں جو اصل میں تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ نکلے تو دیکھا کہ دو پارٹیاں آپس میں تیراندازی کا مقابلہ کر رہی ہیں۔آپ ان کا حوصلہ بڑھانے کے لئے ایک کے ساتھ ہو کر تیر مارنے لگے اس پر دوسری پارٹی نے اپنی کمانیں رکھ دیں اور کہا ہم آپ کا مقابلہ نہیں کریں گے۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا لو۔میں