ہدایاتِ زرّیں — Page 43
43 ہدایات زریں کرنے کے لئے میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے ہیں۔جب وہ ایسی حالت میں ہوتا ہے تو پھر یکدم اس پر کشف ہوتا ہے کہ یہ بات ہے جس کو تو بیان کرنے لگا ہے۔مگر یہ بات پیدا ہوتی ہے اپنے آپ کو گرا دینے سے۔جب کوئی انسان اپنے آپ کو بالکل گرادیتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ اسے اُٹھاتا ہے لیکن اگر کوئی یہ سمجھے کہ میرے پاس علم ہے میں خوب لیکچر دے سکتا ہوں مجھے سب باتیں معلوم ہیں ان کے ذریعہ میں اپنا لیکچر بیان کروں گا تو اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملتی۔کہا جا سکتا ہے کہ اگر لیکچر کیلئے کھڑے ہوتے وقت بالکل خالی الذہن ہو کر کھڑا ہونا چاہئے تو پھر لیکچر کے لئے نوٹ کیوں لکھے جاتے ہیں۔اس کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ جس طرح لیکچر کے وقت میں نے بتایا ہے کہ بالکل خالی الذہن ہونا چاہئے اسی طرح جن لیکچروں کے لئے جوابوں کی کثرت یا مضمون کی طوالت یا اس کی مختلف شاخوں کے سبب سے نوٹ لکھنے ضروری ہوں ان کے نوٹ لکھتے وقت یہی کیفیت دماغ میں پیدا کرنی چاہئے اور پھر نوٹ لکھنے چاہئیں۔میں ایسا ہی کرتا ہوں اور اس وقت جو کچھ خدا تعالیٰ لکھاتا جاتا ہے وہ لکھتا جاتا ہوں۔پھر ان میں اور باتیں بڑھالوں تو اور بات ہے۔اسی سالانہ جلسہ پر لیکچر کے وقت ایک اعتراض ہوا تھا کہ فرشتوں کا چشمہ تو خدا ہے جیسا کہ بتایا گیا ہے اور وہ اس چشمہ سے لے کر آگے پہنچاتے ہیں۔مگر شیطان کا چشمہ کیا ہے اس اعتراض پر دس پندرہ منٹ کی تقریر میرے ذہن میں آئی تھی اور میں وہ بیان ہی کرنے لگا تھا کہ یک لخت خدا تعالیٰ نے یہ فقرہ میرے دل میں ڈال دیا کہ شیطان تو چھینتا ہے نہ کہ لوگوں کو کچھ دیتا ہے اور چھینے والے کو کسی ذخیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔یہ ایسا مختصر اور واضح جواب تھا کہ جسے ہر ایک شخص آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا تھا لیکن جو تقریر کرنے کا میں