ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 30

30 ہدایات زریں اس خبر کو اخبار میں شائع کرایا جس پر ایک دوست نے سخت افسوس کا خط لکھا کہ اخبار والوں کو منع کیا جائے کہ ایسی خبر نہ شائع کیا کریں۔حالانکہ وہ خبر میں نے خود کہہ کر شائع کرائی تھی۔اور منجملہ اور حکمتوں کے ایک یہ غرض تھی کہ اس خبر کے شائع ہونے سے جماعت میں غیرت پیدا ہو اور ان میں سے اور لوگ اپنے آپ کو تبلیغ کے لئے پیش کریں۔یہاں یہ بھی یادرکھنا چاہئیے کہ میرا یہ منشاء نہیں کہ خود بخود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالو بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی جگہ کی تبلیغ اس لئے مت ترک کرو کہ وہاں کوئی خطرہ ہے۔اور نہ میرا یہ منشاء ہے کہ لوگ بے شک تکلیف دیں اس تکلیف کا مقابلہ نہ کرو۔بے شک قانوناً جہاں ضرورت محسوس ہو اس کا مقابلہ کرومگر تکالیف اور خطرات تمہیں اپنے کام سے نہ روکیں اور تمہارا حلقہ کا ر محدود نہ کر دیں۔میں نے اخلاق کے مسئلہ کا مطالعہ کیا ہے اور دیکھا ہے کہ ستر فیصدی گناہ جرات اور دلیری کے نہ ہونے کے سبب سے پیدا ہوتے ہیں۔اگر جرأت ہو تو اس قدر گناہ نہ ہوں۔پس دلیری اپنے اندر پیدا کرو تا کہ ایک تو خود ان گناہوں سے بچو جو جرات نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور دوسرے تمہاری کوششوں کے اعلیٰ نتائج پیدا ہوں۔ہاں اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھو کہ اپنی طرف سے ہر قسم کے فساد یا جھگڑے کے دور کرنے کی کوشش کرو اور موعظہ حسنہ سے کام لو۔اس پر بھی اگر کوئی تمہیں دُکھ دیتا ہے، مارتا ہے، گالیاں نکالتا ہے یا بُرا بھلا کہتا ہے تو اس کو برداشت کرو اور ایسے لوگوں کا ایک ذرہ بھر خوف بھی دل میں نہ لاؤ۔تیسری ہدایت تیسری بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس میں لوگوں کی ہمدردی اور ان کے