ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 28

28 ہدایات زریں ہے۔اگر مبلغ ہی دلیر نہ ہوگا تو دوسروں میں جو اسے اپنے لئے نمونہ سمجھتے ہیں دلیری کہاں سے آئے گی۔ہمارے مبلغوں میں اس بات کی کمی ہے اور وہ بہت سے علاقے اسی دلیری کے نہ ہونے کی وجہ سے فتح نہیں کر سکتے ورنہ بعض علاقے اسی ہیں کہ اگر کوئی جرات کر کے چلا جائے تو صرف دیا سلائی لگانے کی ضرورت ہوگی آگے خود بخو دشعلے نکلنے شروع ہو جائیں گے۔مثلاً افغانستان اور خاص کر سرحدی علاقے ان میں اگر کوئی مبلغ زندگی کی پرواہ نہ کر کے چلا جائے تو بہت جلد سارے کے سارے علاقہ کے لوگ احمدی ہو سکتے ہیں۔کیونکہ ان کی حالت عربوں کی طرح کی ہے وہ جب احمدی ہوں گے تو اکٹھے کے اکٹھے ہی ہونگے۔عام طور پر متمدن ممالک میں قوانین کے ذریعہ بہت کام چلایا جاتا ہے مثلاً اگر یہاں کسی کو کوئی دشمن قتل نہیں کرتا تو اس لئے نہیں کہ زید یا بکر کے دوست اور اس کے ہم قوم اس کا مقابلہ کریں گے بلکہ اس لئے قتل نہیں کرتا کہ قانون اسے پھانسی دے گا۔اس لئے ایسے ممالک میں جو متمدن ہوں قانون کے ڈر کی وجہ سے لوگ ظلم سے رُکتے ہیں۔لیکن جہاں تمدن نہ ہو وہاں ذاتی تعلقات بہت زوروں پر ہوتے ہیں۔کیونکہ ہر ایک شخص اپنا بچاؤ اسی میں سمجھتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے آدمیوں کی جنبہ داری کرے تا وہ بھی بوقت ضرورت اس کی جنبہ داری کریں اور اس طرح ان ممالک میں کوئی شخص اکیلا نہیں ہوتا۔جو حال یہاں گھرانوں کا ہوتا ہے وہ ان ممالک میں قوموں کا ہوتا ہے اور اگر ان ممالک میں پندرہ ہیں آدمی جان ہتھیلی پر رکھ کر چلے جائیں اور کچھ لوگوں کو بھی احمدی بنا لیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ارد گرد کی قو میں ان پر ظلم کریں گی اور قومی جنبہ داری کے خیال سے ان کے ہم قوم بھی احمدیت قبول کر لیں گے اور اس طرح تھوڑے ہی عرصہ میں تیس چالیس لاکھ آدمی سلسلہ میں داخل ہوسکتا ہے۔