حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 16
16 سینہ کاٹ دیا عبداللہ یہ دیکھ کر بے حد ڈر گئے۔بھاگم بھاگ گھر پہنچے اور اپنے امی ابا کو بتایا کہ محمد صل اللہ کو کسی نے قتل کر دیا ہے۔حلیمہ اور حارث تیزی سے وہاں پہنچے دیکھا تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا اور محمد صل اللہ کچھ خوفزدہ سے کھڑے تھے رنگ فق تھا۔دونوں نے پیار سے سینے سے چمٹایا اور پیار بھرے لہجے میں پوچھا بیٹا کیا بات ہوئی ؟ محمد صل اللہ نے معصوم انداز میں ساری بات بتائی۔دو آدمی آئے تھے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ان کے پاس سونے کا طشت تھا۔اس میں برف تھی۔وہ میرا سینہ کھول کر کچھ تلاش کر رہے تھے۔پھر میرا دل نکال کر شگاف دیا اور اس میں سے ایک سیاہ ٹکڑا نکال کر پھینک دیا۔پھر میرے سینے اور دل کو برف سے دھو دیا۔یہاں تک کے خوب پاک کر دیا۔“ (ابن ہشام صفحہ 112 مسلم جلد 1 باب 81 سراء) حلیمہ اور حارث نے ادھر اُدھر دیکھا کوئی آدمی تھا نہ خون ، نہ کوئی جسم کا حصہ باہر پھینکا ہوا نظر آیا۔اللہ کا شکر ادا کیا کہ بچہ، پرائی امانت، بالکل سلامت ہے فوراً فیصلہ کر لیا کہ آپ کو والدہ کے پاس چھوڑ آئیں گی۔خدا جانے کیا واقعہ ہوا تھاوہ ڈرگئیں کہ کہیں کچھ اور نہ ہو جائے۔بہتر ہے ماں کے حوالے کر دیں۔پیارے بچو! یہ واقعہ شق صدر کہلاتا ہے یعنی سینہ چاک ہونے والا واقعہ۔یہ ایک طرح کا کشف تھا۔کشف کا مطلب ہے جاگتے ہوئے خواب کا سا منظر نظر آ جانا۔اس کشف میں آپ کا رضاعی بھائی بھی کچھ حد تک شریک تھا تا کہ گواہ بنے۔اللہ تعالیٰ کا فرشتہ انسان کے روپ میں آیا اور آپ کے سینہ مبارک کو صاف کیا۔پیارے محمد صل اللہ کے دل میں کوئی گندگی نہ تھی۔آپ کا دل تو پاک تھا یہ سارا واقعہ خواب کی طرح تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ دنیا کی محبت آپ کے دل سے نکال دی گئی۔آپ کو