حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ؓ — Page 15
27 26 بہت عبادت گزار تھے اور قیام الیل میں تو میرا مشاہدہ ہے کہ رمضان کے خلافت سے محبت مہینہ میں مدرسہ احمدیہ کے صحن میں ایک دفعہ سویا ہوا تھا تو میں تو حضرت مولوی صاحب کو جب بھی میری آنکھ کھلتی نماز میں مشغول پاتا۔آپ اپنے مکان کی چھت پر نماز پڑھ رہے ہوتے۔جو سمن بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کے ساتھ ملحق تھا اور یہ حال سارا رمضان کا مہینہ ہوتا تھا۔“ مکرم مولانا ارجمند خان صاحب سابق وائس پرنسپل جامعہ احمد یہ آپ کی خلافت سے محبت اور تعظیم کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ( بیت ) مبارک میں نماز ظہر یا نماز عصر کے بعد جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز تشریف فرما ہوتے تو حضور کے پر مغز اور پُر معارف کلام ( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ سوم صفحہ 23) کو سنے کیلئے سامعین مؤدبانہ طور پر ہمہ تن گوش ہوتے تھے اور حضرت مولانا صاحب کی یہ عادت تھی کہ آپ کے ہاتھ میں رومال ہوتا تھا جس سے کسی مکھی کو آپ حضور کے جسم مبارک پر نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔اس سے مجھ پر یہ اثر تھا کہ آپ کو منصب خلافت کی عظمت کا بہت خیال ہے۔“ نماز با جماعت کی ادائیگی پر آپ سختی سے پابند تھے خواہ کیسے ہی حالات ہوں۔آپ باجماعت نماز کی ادائیگی کے لئے بیت الذکر پہنچتے۔مکرم مولوی سلیم اللہ صاحب فاضل تحریر کرتے ہیں: مجھے 1911 ء سے 1927ء تک قادیان میں قیام کا موقع ملا۔آپ کی شاگردی کا شرف بھی حاصل کیا۔آپ کو باجماعت نماز کا جس قدر احساس تھا وہ اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ آپ کی صاحبزادی حلیمہ بیگم نزع کی حالت میں تھیں کہ (نداء ) ہو گئی۔آپ نے بچی کا ماتھا چوما اور سر پر ہاتھ پھیرا اور اسے سپرد خدا کر کے ( بیت الذکر ) چلے مرکز سلسلہ سے محبت ( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ سوم صفحہ 54) آپ کی سیرت کا ایک نمایاں وصف آپ کا مرکز سلسلہ سے محبت کرنا تھا۔قادیان گئے۔بعد نماز جلدی سے اٹھ کر واپس آنے لگے تو کسی نے ایسی جلدی کی وجہ دریافت کی خاطر آپ نے اپنے عزیز و اقرباء اور دنیوی اموال کو رد کیا اور خلیفہ اسیح کی صحبت کی تو فرمایا کہ نزع کی حالت میں بچی کو چھوڑ آیا تھا اب فوت ہو چکی ہو گی۔اس کے کفن میں رہ کر دین کو دنیا پر مقدم کیا۔آپ کے صاحبزادے سید مبارک احمد سرور صاحب دفن کا انتظام کرنا ہے۔چنانچہ بعض دوسرے دوست بھی گھر تک ساتھ آئے اور بچی اس ضمن میں بیان کرتے ہیں: وفات پا چکی تھی۔" تایا جان حضرت سید محمد صادق صاحب مرحوم نے حضرت والد صاحب کو خط لکھا ( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ سوم صفحہ 82) کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں میری دولڑکیاں جوان ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ بڑی بیٹی کی