حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ؓ — Page 14
25 24 حصه سوم عبادت اخلاق عالیہ اسی طرح مکرم مولوی خلیل الرحمن بیان کرتے ہیں: وو آپ ( بیت ) مبارک میں ہمیشہ اول صف میں بیٹھا کرتے تھے اور دو رکعت نماز تحیۃ ( البيت ) کے طور پر ضرور پڑھتے تھے۔سخت سردی اور سخت گرمی اور بارش بھی با جماعت ادا ئیگی نماز میں روک نہ بنتی تھی۔بلکہ بسا اوقات سخت بخار کی حالت میں بھی آپ ( بیت ) میں تشریف لے آتے تھے۔ایک مرتبہ آپ کو سخت بخار تھا تو حضور ایدہ حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب فنافی اللہ وجود تھے۔آپ کی عبادت ایک اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد پر خاکسار کے والد محترم عبدالرحیم خاں صاحب مرحوم خاص مقام رکھتی تھی جس میں انتہائی سوز و گداز ہوتا تھا۔آپ کی نمازیں لمبی ہوا کرتی درولیش اور ایک اور دوست نے سہارا دے کر گھر پہنچایا۔“ ( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ سوم صفحہ 21) تھیں۔جن میں آپ اللہ تعالیٰ کی محبت میں ڈوب کر ذکر الہی کیا کرتے تھے۔بیت مبارک قادیان میں آپ ہمیشہ پہلی صف میں بیٹھے نظر آتے تھے اور نماز سے کافی پہلے آکر آپ کی نماز میں خشوع و خضوع اور سوز و گداز سے بھر پور ہوا کرتی تھیں۔آپ کی ذکر الہی میں مصروف ہو جاتے۔آپ باجماعت نماز کی اس قدر پابندی فرماتے کہ خواہ نمازوں میں ایک خاص محویت اور انہاک ہوتا۔جس کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت کیسے ہی حالات ہوں، کیسا ہی موسم ہو ، آپ حتی المقدور بیت الذکر پہنچتے۔آپ کی عبادت میر محمد اسحق صاحب بیان کیا کرتے تھے کہ حضرت مولوی صاحب پہلے تو سورت فاتحہ کا نقشہ چوہدری محمد شریف صاحب سابق مربی مغربی افریقہ و بلاد عر بیہ ان الفاظ میں تلاوت فرماتے ہیں اس کے بعد اس کا لفظی ترجمہ کرتے ہیں۔ازاں بعد با محاورہ ترجمہ اور اس کے بعد وہ اس کی تفسیر میں محو ہو جاتے ہیں۔آپ کی محویت اور انہاک کا کھینچتے ہیں۔( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ سوم صفحہ 25) آپ کی زندگی نہایت سادی اور درویشانہ تھی۔آپ کی شخصیت میں ریا کاری ، عجیب عالم تھا۔میں نے سینکڑوں نمازیں آپ کی اقتدا میں ادا کیں اور ان میں ایک نمود و نمائش اور تکبر نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ستی اور کا بلی آپ کے پاس تک نہ پکتی تھی۔خاص لطف پایا۔پانچوں نمازیں ( بیت ) مبارک میں ادا فرماتے تھے۔مینہ ہو ، آندھی ہو ، اندھیری رات ہو،سخت دھوپ ہو ، جلسہ ہو ، جلوس ہو ، مشاعرہ ہو، مناظرہ ہو، عام تعطیل ہو یا خاص آپ نوافل بڑے اہتمام سے اور باقاعدگی سے ادا کر تے تھے بسا اوقات رات آپ نماز کھڑی ہونے سے بہت دیر پہلے اپنے مقررہ وقت پر اپنی مقررہ جگہ پر موجود کا بیشتر حصہ نوافل کی ادائیگی میں گزار دیتے۔چنانچہ مولوی احمد خان صاحب نسیم کا ہوتے تھے۔( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ سوم صفحہ 175) بیان ہے: