حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page vii of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page vii

بسم اللہ الرحمن الرحیم صیت نبوی اور شہید کابل محبوب کبریا خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ کے پُرفتن دور کا تذکرہ کرتے ہوئے وصیت فرمائی: كُونُ دُعَاةُ الضَّلَالَةِ فَإِنْ رَتَيْتَ يَوْمَئِذٍ خَلِيْفَةَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ فَالْزِمْهُ وَإِنْ نُهِكَ جِسْمُكَ وَأُخِذَ مالک“ ( مسند احمد بن حنبل جلد ۵ صفحه ۴۰۳) اُس زمانہ میں داعیانِ ضلالت پیدا ہو جائیں گے۔ان حالات میں اگر تم زمین میں خلیفہ اللہ کودیکھ تو نہایت مضبوطی کے ساتھ اس کے دامن سے وابستہ ہو جاؤ خواہ تمہارا جسم لہولہان کر دیا جائے اور تمہارا سب مال ضبط کر لیا جائے۔اس وصیت نبوی کے مطابق شیخ احجم رئیس اعظم خوست حضرت مولوی شہزادہ سید عبد اللطیف نے ۱۴ جولائی ۱۹۰۳ء کو کابل میں جام شہادت نوش کیا۔بنا کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را کیلنڈر کی رو سے یہ حیرت انگیز توارد ہے کہ احمدیت کی دوسری صدی کی دوسری عید یعنی عید قربان ٹھیک ۱۴ / جولائی (۱۹۸۹ء) ہی کو منائی جارہی ہے جو حضرت شہزادہ سید عبداللطیف کا یوم شہادت ہے یقینا یہ محض اتفاقی بات نہیں بلکہ اس میں عید کی خوشیاں منانے والے احمدیوں کے لئے یہ آسمانی اشارہ ہے کہ شہید مرحوم کے مقدس خون کی برکت ہے کہ احمدیت کا نھا پودہ تیز