حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 46 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 46

میں نے اسے مان لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب یہ خطوط لکھے گئے تو آپ نے اپنے ایک آدمی کو فر مایا کہ یہ خطوط کابل لے جاؤ اور ان لوگوں کو دید و جن کے نام یہ خط ہیں۔تب اس آدمی نے عرض کی کہ کپڑے وغیرہ لے لوں کہ سردی کا موسم ہے۔آپ بہت ناراض ہوئے اور کاغذ واپس لے لئے اور فرمایا تم اس لائق نہیں ہو۔ان میں سے ایک آدمی عبد الغفار صاحب برادر مولوی عبدالستار مہاجر قادیان نے جو بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں اس مجلس سے اٹھ کر عرض کیا کہ میں حاضر ہوں۔آپ خوش ہو گئے اور اسے تمام خطوط دے دیئے۔اس وقت سردی کا موسم تھا برف پڑی ہوئی تھی۔اس نے کاغذ لے جا کر جن کے نام خطوط تھے دیدئے۔یہ عبد الغفار ان لوگوں سے جن کے نام خطوط تھے شہید مرحوم کی وجہ سے خوب واقف تھے جب عبد الغفار صاحب نے ان سے جواب مانگے تو مرزا محمد حسین خان صاحب گورنر نے جواب دیا کہ تم ابھی چلے جاؤ بعد میں ڈاک کے ذریعہ مولوی صاحب کو جواب پہنچ جائے گا۔پس وہ تمام خطوط بادشاہ کے یہاں پیش ہوئے۔بادشاہ نے تمام اپنے معتبر مولویوں کو بلایا اور کہا کہ ان خطوط کے بارہ میں کیا جواب دیتے ہو؟ مولویوں نے عرض کیا یہ دعوی کرنے والا شخص آدھا قرآن شریف مانتا ہے اور آدھا نہیں مانتا۔اور کافر ہے۔جو اس کو مانے وہ بھی کافر اور مرتد ہے۔اگر صاحبزادہ صاحب کے کلام کو ڈھیل دی جاوے گی تو بہت لوگ مرتد ہو جاویں گے۔تب امیر نے گورنر خوست کو حکم دیا کہ صاحبزادہ صاحب کو گرفتار کر کے پچاس سواروں کے ساتھ یہاں بھیج دو۔کوئی ان سے کلام نہ کرے اور نہ کوئی ملنے کے لئے آئے۔نہ یہ کسی کو ملیں اور نہ کسی سے کلام کریں۔مولوی عبد الغفار صاحب نے واپس آکر صاحبزادہ صاحب سے عرض کی۔کہ مجھے تو 46