حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 43
ٹھہرے کہ کچھ کتابیں خرید کر ان کی جلد بندھوا لیں اور دوستوں کے وہاں گھر تھے مگر چونکہ آپ کو تنہائی پسند تھی اس لئے مسجد میں اترے۔۔۔۔۔ایک روز میاں معراج الدین صاحب آئے اور شہید مرحوم سے کہا کہ کھانا تیار ہے۔کھانے کے لئے تشریف لے چلئے۔جب ہم سب اُٹھے تو وہ ہمیں کسی اور کے گھر لے گئے۔وہاں بہت سے لوگ بیٹھے تھے۔لوگ اُٹھ کر کہنے لگے کہ یہاں بیٹھئے یہاں بیٹھئے۔تب شہید مرحوم نے میاں معراج الدین صاحب کو غصہ سے کہا کہ تم نے ہمیں خیرات خور سمجھا ہے کہ یہاں لے آئے ہیں یہ کہ کر شہید مرحوم باہر نکل آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ باہر نکل آیا۔ہمارے ساتھ کوئی واقف آدمی نہ تھا کہ ہمیں مسجد کا راستہ بتلائے۔تب شہید مرحوم نے مجھے فرمایا کہ تم آگے ہو جاؤ تو میں یونہی ناواقفی کی حالت میں چل پڑا۔خدا نے ہمیں مسجد پہنچا دیا جب تمام کتا ہیں مجلد ہوگئیں تو ہم لاہور سے چل پڑے۔تمام راستہ میں شہید مرحوم گاڑی میں قرآن شریف کی تلاوت کرتے رہے۔آخر کو ہاٹ میں ہم اترے۔وہاں سے ٹمٹم کرایہ کر کے شہر میں پہنچے۔شہر میں آکر یکہ خانہ میں بنوں جانے کے لئے ایک ٹمٹم والے کو سائی کا ایک روپیہ دیگر ٹمٹم کی۔جب صبح ہوئی تو ایک سرکاری آدمی آیا اور اس ٹمٹم والے کو زبردستی لے گیا۔اور کہا ایک سرکاری ضروری کام ہے۔جب ٹمٹم والے کو آنے میں دیر ہوئی تو شہید مرحوم نے مجھے ٹمٹم والے کی طرف بھیجا۔میں وہاں سے چل پڑا۔اور تلاش کرتے ہوئے ٹمٹم والے کے پاس آیا۔وہ کہنے لگا کہ میں نہیں آسکتا۔مجھے سرکاری آدمی لے آیا ہے۔میں نے اس سے سائی کاروپیہ مانگا۔کہ روپیہ دیدو۔اس نے روپیہ دینے سے انکار کیا۔اس اثناء میں تحصیلدار آ گیا۔میں نے تحصیلدار سے کہا کہ یا توٹمٹم والے کو میرے ساتھ کر دو کہ آپ سے پہلے میں نے ٹمٹم کرایہ پر لی ہوئی تھی یا سائی کا روپیہ واپس کرا دیں اس نے کہا نہیں سرکاری کام کرنا ضروری ہے۔میں آدمی نہیں دے سکتا۔میں نے کہا میں بھی تو سرکاری آدمی ہوں۔آخر کچھ جھگڑے کے بعد روپیہ واپس کرا دیا۔43