حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 42 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 42

السلام سے گھر جانے کی اجازت لے کر شہید مرحوم کے پاس آئے اور کہا کہ میں نے حضرت صاحب سے اجازت لے لی ہے۔لیکن مولوی نور الدین صاحب سے نہیں لی۔شہید مرحوم نے فرمایا کہ مولوی صاحب سے جا کر ضرور اجازت لینا کیونکہ مسیح موعود کے بعد یہی اول خلیفہ ہوں گے۔چنانچہ جب شہید مرحوم جانے لگے تو مولوی صاحب سے حدیث بخاری کے دو تین صفحے پڑھے اور ہم سے فرمایا کہ یہ میں نے اس لئے پڑھے ہیں کہ تا میں بھی ان کی شاگردی میں داخل ہو جاؤں۔حضرت صاحب کے بعد یہ خلیفہ اول ہوں گے۔شہید مرحوم امیر کابل سے چھ ماہ کی رخصت لے کر آئے تھے۔جب روانگی کا وقت آیا تو شہید مرحوم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رخصت ہونے کی اجازت مانگی۔حضرت نے فرمایا کہ جب آپ کو دوسرے سال حج کے لئے جانا ہے تو آپ یہیں ٹھہر جاویں پھر آئندہ سال حج کو روانہ ہو جانا۔بعد میں گھر بھی چلے جانا۔شہید مرحوم نے عرض کیا کہ نہیں حج کے لئے پھر آجاؤں گا۔جب شہید مرحوم روانہ ہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور کچھ لوگ قریبا ڈیڑھ میل تک چھوڑنے کیلئے گئے۔جب رخصت ہونے لگے تو شہید مرحوم مٹی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں پر گرے اور دونوں ہاتھوں سے قدم پکڑ لئے اور عرض کیا کہ میرے لئے دُعا فرما ئیں۔تو حضرت صاحب نے فرمایا اچھا تمہارے لئے دُعا کرتا ہوں۔تم میرے پاؤں کو چھوڑ دو۔انہوں نے پاؤں نہ چھوڑنے پر اصرار کیا۔حضرت صاحب نے فرمایا الامر فوق الادب میں تم کو حکم دیتا ہوں کہ چھوڑ دو۔تب شہید مرحوم نے پاؤں چھوڑ دیئے۔حضرت صاحب واپس چلے آئے۔میں اور مولوی عبدالستار صاحب مہاجر قادیان اور شہید مرحوم کے چند شاگردوں کے ساتھ چلے گئے۔تمام راستہ میں شہید مرحوم قرآن شریف کی تلاوت کرتے رہے۔لاہور پہنچ کرمیاں چراغ الدین صاحب کے پرانے مکان کے ساتھ ایک چھوٹی سی مسجد ہے اس میں تین چار دن 42