حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 25 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 25

انہوں نے سمجھ لیا کہ اب میں مروں گا۔تب یہ آیت پڑھی۔رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةِ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَاب۔یعنی اے ہمارے خدا دل کو لغزش سے بچا اور بعد اس کے جو تو نے ہدایت دی ہمیں پھسلنے سے محفوظ رکھ اور اپنے پاس سے ہمیں رحمت عنایت کر کیونکہ ہر ایک رحمت کو تُو ہی بخشتا ہے۔پھر جب ان کو سنگسار کرنے لگے تو یہ آیت پڑھی۔انت ولـي فـي الدنيا والأخرة توفنى مسلما والحقني بالصالحین یعنی اے میرے خدا تو دنیا اور آخرت میں میرا متولی ہے مجھے اسلام پر وفات دے اور اپنے نیک بندوں کے ساتھ ملادے۔پھر بعد اس کے پتھر چلائے گئے۔اور حضرت مرحوم کو شہید کیا گیا۔انا للہ وانا اليه راجعون۔اور صبح ہوتے ہی کابل میں ہیضہ پھوٹ پڑا اور نصر اللہ خان حقیقی بھائی امیر حبیب اللہ خان کا جو اصل سبب اس خونریزی کا تھا اس کے گھر میں ہیضہ پھوٹا اور اس کی بیوی اور بچہ فوت ہو گیا اور چارسو کے قریب ہر روز آدمی مرتا تھا۔اور شہادت کی رات آسمان سرخ ہو گیا۔اور اس سے پہلے مولوی صاحب فرماتے تھے کہ مجھے بار بار الہام ہوتا ہے اذهب الى فرعون انی معک اسمع واری و انت محمد معتبر معطر اور فرمایا کہ مجھے الہام ہوتا ہے کہ آسمان شور کر رہا ہے اور زمین اُس شخص کی طرح کانپ رہی ہے جو تپ لرزہ میں گرفتار ہو دنیا اس کو نہیں جانتی یہ امر ہونے والا ہے۔اور فرمایا کہ مجھے ہر وقت الہام ہوتا ہے کہ اس راہ میں اپنا سر دیدے اور دریغ نہ کر کہ خدا نے کابل کی زمین کی بھلائی کے لئے یہی چاہا ہے اور میاں نوراحمد کہتے ہیں کہ مولوی صاحب موصوف ڈیڑھ ماہ تک قید رہے اور پہلے ہم لکھ چکے ہیں کہ چار ماہ تک قید میں رہے۔یہ اختلاف روایت ہے۔اصل واقعہ میں سب متفق ہیں۔والسلام علی من اتبع الهدی۔( تذكرة الشہا دتین صفحه ۱ تا ۱۲۰ طبع اوّل) 25