حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 24
کے میں نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر رات کے وقت ان کی نعش مبارک نکالی اور پوشیدہ طور پر شہر میں لائے اور اندیشہ تھا کہ امیر اور اس کے ملازم کچھ مزاحمت کریں گے مگر شہر میں و ہائے ہیضہ اس قدر پڑچکا تھا کہ ہر ایک شخص اپنی بلا میں گرفتار تھا۔اس لئے ہم اطمینان سے مولوی صاحب مرحوم کا قبرستان میں جنازہ لے گئے اور جنازہ پڑھ کر وہاں دفن کر دیا یہ عجیب بات ہے کہ مولوی صاحب جب پتھروں میں سے نکالے گئے تو کستوری کی طرح ان کے بدن سے خوشبو آتی تھی۔اس سے لوگ بہت متاثر ہوئے۔اس واقعہ سے پہلے کابل کے علماء امیر کے حکم سے مولوی صاحب کے ساتھ بحث کرنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔مولوی صاحب نے ان کو فرمایا کہ تمہارے دو خدا ہیں۔کیونکہ تم امیر سے ایسا ڈرتے ہو جیسا کہ خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے۔مگر میرا ایک خدا ہے۔اس لئے میں امیر سے نہیں ڈرتا۔اور جب گھر میں تھے اور ابھی گرفتار نہیں ہوئے تھے اور نہ اس واقعہ کی کچھ خبر تھی۔اپنے دونوں ہاتھوں کو مخاطب کر کے فرمایا اے میرے ہاتھو! کیا تم ہتھکڑیوں کو برداشت کر لو گے۔ان کے گھر کے لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیا بات آپ کے منہ سے نکلی ہے۔تب فرمایا کہ نماز عصر کے بعد تمہیں معلوم ہوگا کہ یہ کیا بات ہے تب نماز عصر کے بعد حاکم کے سپاہی آئے اور گرفتار کر لیا۔اور گھر کے لوگوں کو انہوں نے نصیحت کی کہ میں جاتا ہوں اور دیکھو ایسا نہ ہو کہ تم کوئی دوسری راہ اختیار کرو۔جس ایمان اور عقیدہ پر میں ہوں چاہئے کہ وہی تمہارا ایمان اور عقیدہ ہو۔اور گرفتاری کے بعد راہ میں چلتے کہا کہ میں اس مجمع کا نوشاہ ہوں۔بحث کے وقت علماء نے پوچھا کہ تو اس قادیانی شخص کے حق میں کیا کہتا ہے جو مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتا ہے۔تو مولوی صاحب نے جواب دیا کہ ہم نے اس شخص کو دیکھا ہے اور اس کے امور میں بہت غور کی ہے۔اس کی مانند زمین پر کوئی موجود نہیں اور بیشک اور بلا شبہ وہ مسیح موعود ہے اور وہ مُردوں کو زندہ کر رہا ہے۔تب ملانوں نے شور کر کے کہا کہ وہ کافر اور تو بھی کافر ہے اور ان کو امیر کی طرف سے بحالت نہ تو بہ کرنے کے سنگسار کرنے کے لئے دھمکی دی گئی۔اور 24%