حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page iii of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page iii

پیش لفظ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح موعود کی جماعت کے متعلق سید ارشاد فرمایا تھا کہ وہ آخرین کی جماعت صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والی ہوگی۔جس طرح سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بے دریغ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کیا اسی طرح اللہ تعالیٰ ایسے فدائی اور جاں نثار ساتھی مسیح موعود کو بھی عطا کریگا۔زیر نظر کتاب میں ایسے ہی ایک فدائی جاں نثار صحابی کا تذکرہ ہے جنہوں نے نہایت دلیری اور جوانمردی سے اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ہماری مراد شہزادہ عبد اللطیف صاحب سے ہے جن کو کابل میں نہایت بے دردی کے ساتھ سنگسار کیا گیا۔اس پاک روح نے جان کی قربانی کو تو قبول کر لیا مگر اُس حق اور صداقت کو چھوڑ نا پسند نہ کیا جس پر ان کا دل ایک غیر متزلزل یقین پر قائم تھا۔زیر نظر کتاب پہلی بار احمدیت کی دوسری صدی کی پہلی عید قربان کے موقعہ پر ربوہ پاکستان سے شائع ہوئی تھی۔یہ عید قربان 14 جولائی کو تھی اور اسی دن شہزادہ صاحب کو شہید کیا گیا تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ میں بیان فرمایا کہ: