حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 98
دوران بہت سے انگریز مرد اور لیڈیاں حضرت اقدس کی تصویر کھینچنے کے شائق تھے۔ایک روایت کے مطابق جو مدت سے چلی آرہی ہے اور الفضل ( قادیان) میں بھی اُس کا ذکر ہے۔لاہور سٹیشن پر ایک انگریز نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی فوٹولی تھی۔مگر آج تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔۳۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ امیر عبدالرحمن خان کے بیٹے امیر حبیب اللہ خان (۱۸۷۲ء تا ۱۹۱۹ء) کی رسم تاج پوشی حضرت صاحبزادہ صاحب کے ہاتھوں عمل میں آئی۔اے کاش! اس شاہی تقریب کا کوئی فوٹو کابل کے میوزیم یا کسی اور ملک کی لائبریری یا عجائب گھر سے دستیاب ہو جائے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کے لختِ جگر۔سلسلہ کے جید عالم اور میرے مشفق استاد حضرت سید ابوالحسن صاحب قدسی کو عمر بھر اس کے دیکھنے کی حسرت رہی۔سید احمد نور کا بلی صاحب حضرت صاحبزادہ صاحب کی خونچکاں شہادت کے واقعہ کے بد بطور نشانی آپ کے بال ساتھ لائے اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی خدمت میں پیش کئے۔حضور نے وہ بال ایک کھلے منہ کی چھوٹی بوتل میں ڈال اس بوتل کو سر بمہر کر دیا اور پھر اس شیشی میں تاکہ باندھ کر اپنی بیت الدعاء کی ایک کھونٹی سے لڑکا دیا۔اور یہ سارا عمل آپ نے ایسے طور پر کیا کہ گویا ان بالوں کو آپ ایک تبرک خیال فرماتے تھے۔(سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۵۴ چشمد ید واقعات حصہ اوّل صفحه ۲۳) یہ متبرک بال اگر احمدیت کی دوسری صدی تک محفوظ رہتے تو ایک احمدی کوان کی زیارت سے کتنی روحانی مسرت اور قلبی سکون حاصل ہوتا لیکن افسوس صد افسوس ! وہ تو ربع صدی کے اندر ہی غائب ہو گئے۔مگر انشاء اللہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی یادگار تصویر قیامت تک محفوظ رہے گی۔کیا ہی مبارک ہیں وہ خدام دین جو اس دائمی یادگار کے محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کرتے۔اور خدا کے فضلوں کے وارث بنتے ہیں۔(الفضل ۲۲ مئی ۱۹۸۹ء) 98