حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 94 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 94

حضرت بزرگ صاحب نے اپنی آنکھوں سے جو حالات دیکھے یا حضرت صاحبزادہ صاحب کی زبانِ مبارک سے سنے اُن کو سید احمد نور صاحب کا بلی نے ” شہید مرحوم کے چشم دید واقعات حصہ دوم کے نام سے ۲۶ / دسمبر ۱۹۲۱ء کو ایک مستقل رسالہ کی شکل میں شائع کر دیا یہ حالات بھی بہت ہی ایمان افروز ہیں اور آپ کی سیرت و سوانح پر قلم اُٹھانے والا کوئی شخص اس سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔اس رسالہ سے یہ انکشاف بھی ہوتا ہے کہ آپ احمدیت سے وابستگی سے قبل بھی دوبار ہندوستان تشریف لے گئے تھے۔دوسری بار آپ نے لکھنو میں ایک فقیر کے ہاتھ پر بیعت کی جو نقشبندی طریقے کا تھا۔اس نے کہا کہ مجھے ہر طریقہ کی اجازت ہے لیکن میں نقشبندی طریقہ پر بیعت لیتا ہوں۔اس کے بعد کچھ دنوں کے لئے فقیر چلا گیا اور آپ پر بہت سے اسرار کھلے۔چند روز بعد وہ فقیر تیسری بار آیا۔کچھ باتیں ہوئیں تو فقیر نے کہا کہ آپ نے تو بہت ترقی کی ہے کہ میں بالکل آپ کی طرف نہیں دیکھ سکتا اور پھر آپ کو بیعت لینے کی اجازت دیدی۔اس رسالہ میں حضرت بزرگ صاحب نے بڑی تفصیل سے آپ کے پہلے سفر ہندوستان پر روشنی ڈالی ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں: صاحبزادہ صاحب علم مروجہ کے بڑے عالم تھے۔ہر قسم کا علم رکھتے تھے۔بہت سے شاگرد بھی آپ سے تعلیم پاتے تھے۔ایک دفعہ آپ کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ ہندوستان بھی جانا چاہئے۔یہ گورنر ( شریندل) کے حاکم ہونے سے پہلے کا واقعہ تھا۔آپ نے مولوی جان گل سے کہا کہ میرا ہندوستان جانے کا ارادہ ہے۔مولوی صاحب نے عرض کیا میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ میں تو ایک تہہ بند رکھتا ہوں۔ملنگ کے بھیس میں جاؤں گا۔اگر تم میرے ساتھ جانا چاہتے ہو تو صرف تہہ بند رکھنا ہوگا اور ملنگ بن کر چلنا ہوگا۔آخر آپ اور مولوی صاحب نے تہہ بند باندھا۔فقیری کے بھیس میں امرتسر آئے۔صاحبزادہ 94