حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ — Page 8
13 12 تب حضرت صاحب نے فرمایا کہ حکم کا درجہ ادب سے زیادہ ہے۔میں حکم دیتا ہوں کہ پاؤں چھوڑ دیں۔اس پر شہزادہ صاحب نے حضور کے پاؤں چھوڑے۔معلوم ہوتا ہے شہزادہ صاحب کو خدا کی طرف سے پتہ چل گیا تھا کہ حضور کے ساتھ یہ ان کی آخری ملاقات ہے اور شاید پھر حضور سے نہ مل سکیں۔اس سفر میں بھی شہزادہ صاحب کے ساتھ ان کے چند شاگرد تھے۔شہزادہ صاحب لاہور آئے اور تین چار دن ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں رہے۔کچھ کتابیں بھی لاہور سے خریدیں اور پھر ریل گاڑی سے کوہاٹ گئے۔لاہور سے کو ہاٹ تمام راستہ قرآن شریف پڑھتے رہے۔کوہاٹ سے ایک نئم ( دوگھوڑوں وال تانگہ ) کرامیہ پر لے کر آپ بنوں گئے ٹمٹم میں بھی قرآن شریف ہی پڑھتے رہے۔جب عصر کی نماز کا وقت ہوا تو ٹمٹم رکوا کر نماز پڑھائی۔اس دوران بارش شروع ہوگئی مگر آپ نے مزے سے اپنی نماز پوری کی۔اس سفر میں راستے میں ”خرم“ ایک گاؤں تھا یہاں آپ نے رات سرائے میں گزاری۔سرائے کے آدمی سے بکری منگوا کر ذبح کرائی خود بھی کھانا کھایا اور سرائے کے آدمیوں کو بھی کھلایا۔آخر یہ قافلہ بنوں پہنچا جہاں آپ کی زمین تھی۔کچھ دن یہاں ٹھہر نے کے بعد آپ خوست روانہ ہوئے۔اس راستے میں ایک گاؤں دوڑ آیا یہاں کا نمبر دار شہزادہ صاحب کے آنے پر بہت خوش ہوا اور بکری ذبح کر کے آپ کی دعوت کی۔یہاں شہزادہ صاحب نے تقریر کی اور نصیحتیں فرمائیں۔رات آپ کے گاؤں کے لوگوں کو آپ کے آنے کی خبر ہوئی تو صبح ہوتے ہی گاؤں کے لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر آپ کو لینے آئے اور اس طرح گھوڑ سواروں کے اس قافلے کے ساتھ آپ واپس اپنے گاؤں سید گاہ پہنچ گئے۔ریاست کا بل میں شہزادہ صاحب کی آمد کابل جانے سے پہلے آپ نے اپنے شاگر دمحمد حسین کو جواس وقت افغانستان کی فوجوں کا سب سے بڑا افسر تھا خط لکھا کہ آپ بادشاہ سے میرے کابل آنے کی اجازت لیکر مجھے لکھیں تا کہ میں بادشاہ کے پاس حاضر ہو جاؤں۔اجازت کے بغیر اس لئے نہ گئے کہ سفر پر جاتے ہوئے بادشاہ سے حج پر جانے کی اجازت لی تھی مگر حج میں روک پڑ جانے کی وجہ سے نہیں جا سکے تھے اور قادیان چلے گئے تھے۔اس خط میں آپ نے لکھا کہ میں حج کے لئے گیا تھا سفر میں اس مسیح موعود کو دیکھنے کا موقع مل گیا جس کی فرمانبرداری خدا اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہے اس لئے قادیان ٹھہر نا پڑا۔آپ نے یہ بھی لکھا کہ مناسب وقت پر یہ باتیں بادشاہ کو بتادی جائیں۔جب یہ خط محمد حسین کو ملا تو اس نے وہ خط بادشاہ کونہ دکھایا اور مناسب وقت کی تلاش میں رہا لیکن اس سے پہلے بادشاہ کے بھائی سردار نصر اللہ خاں کو کسی طرح اس خط کا پتہ چل گیا۔سردار نصر اللہ خاں بادشاہ کا نائب بھی تھا اور شہزادہ صاحب کا بڑا مخالف تھا اس لئے اس نے وہ خط لے کر بادشاہ کو شکایت کر دی۔بڑے بڑے سرکاری عہدیدار اور افسر آپ کے دوست تھے شہزادہ صاحب نے ان کو بھی خط لکھے۔آپ نے لکھا کہ ایک شخص نے قادیان میں مسیح موعود اور امام مہدی ہونے کا دعوی کیا ہے۔میں نے اس کے پاس رہ کر اسے دیکھا ہے اور سچا پا کر اسے مان لیا ہے۔میرا مشورہ ہے کہ تم بھی اسے مان لو اور خدا کے عذاب سے بچ جاؤ۔یہ سارے خط بھی بادشاہ کے پاس پہنچا دیئے گئے۔بادشاہ نے بڑے بڑے مولویوں کو بلایا اور ان کی رائے پوچھی تو انہوں نے کہا کہ کافر اور مرتد ہے۔تب بادشاہ کی طرف سے