حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 45 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 45

90 89 ولا كُلُ مَعَهُمُ بَرَآةُ مِّنَ النَّارِ الفضل ، 31 اکتوبر 1977 صفحہ 4،سنن ابن ماجہ ابواب الادب) یعنی اے لوگوں اپنے بچوں کی عزت کیا کرو کیونکہ ان کی عزت کرنا دوزخ کا پردہ ہے اور ان کے ساتھ مل کر کھانا جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔مزید یہ بھی واضح فرمایا کہ: أَكْرِ مُوَ أَوْلَادَ كُم وَاَحْسِنُوا أَدَبَهُمْ (ابن ماجہ ابواب الادب باب برالوالد ) ان احادیث سے واضح ہے کہ والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں کے ساتھ محبت و شفقت سے پیش آئیں اور ان کے ساتھ نرمی اور ملاطفت اور درگزر کا سلوک روا رکھیں۔اور اپنے بچوں کا واجبی احترام کر کے انہیں اچھے قالب میں ڈھالیں۔بعض اوقات بچوں سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں مگر والدین کے لئے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ان کی تربیت و اصلاح کی لئے سزا ہی دی جائے اور بات بات پر جھڑک کر ان میں احساس کمتری پیدا کیا جائے اور پھر ناراضگی کا اظہار کر کے پابندی عائد نہ کی جائے بلکہ انہیں اسے کسی قدر آزادی بھی دی جائے اور ان کے ساتھ بے تکلفی کا اظہار بھی ہونا چاہئے اس طرح وہ اپنے مربیوں سے متنفر نہیں ہوں گے۔اور اس طرح ان کی تربیت کا موقعہ ملتا رہے گا۔اگر بچے والدین کی سختی سے ڈر کر ان سے دور دور رہیں گے تو ان کی خرابیوں اور بُری عادتوں کا والدین کو علم نہیں ہو سکے گا اور اصلاح نہیں ہو سکے گی۔بعض والدین چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراضگی کا اظہار کرتے اور گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں۔ایسے پست اور عامیانہ سلوک سے بچوں کے وقار اور خودداری اور عزت نفس کو ٹھیس پہنچتی ہے اور ان کے حوصلے پست ہوتے ہیں۔پس اگر والدین بچوں کے ساتھ عزت و احترام و محبت سے پیش آئیں تو بچوں کے اندر اچھے اخلاق پیدا ہوں گے اور ان کا وقار بڑھتا رہے گا اور اچھے کاموں کی طرف رغبت پیدا ہوگی اور ان کے اندر نیک کاموں کے کرنے کی جرات اور حوصلہ پیدا ہوگا۔کبھی چہرے پر نہ مارو پیارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کبھی چہرے پر نہ مارو پس اگر لوگ اس ہدایت اور رحم کی تعلیم پر عمل کریں۔اور بچوں کے منہ پر نہ ماریں تو بہت سے حادثوں سے نجات مل سکتی ہے۔(ابو داؤد حياة المسلمين ) والدین بچوں سے جھوٹ نہ بولیں الا و قول الزور چالیس جواہر پارے ص 65 حدیث نمبر 14) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ” خبر دار جھوٹ بات کہنے سے بچو اور جھوٹی گواہی دینے سے بچو حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کے جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے ایک میل دور چلا جاتا ہے تین بڑے گناہ ہیں۔اول۔شرک دوم۔والدین کی نا فرمانی اور تیسرا بڑا گناہ جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا ہے۔جھوٹ کی عادت آپ جانتے ہیں کہ اگر بچے جھوٹ بولتے ہیں۔ان کی بچپن کی یہ عادت پھر بڑے ہو کر بھی نہیں چھٹتی اور یہ جھوٹ اکثر ماں باپ خود سکھاتے ہیں اور جب بچہ خوب جھوٹ بولنے لگتا ہے تو حیران ہو کر کہتے ہیں کہ خبر