حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 41 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 41

82 81 رکھا اور فرمایا کیا نام رکھا ہے۔والدین نے عرض کیا 'حرب' نام ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اس کا نام حسنؓ ہوگا اور ساتویں دن عقیقہ کیا گیا۔اور بالوں کے برابر چاندی صدقہ کی گئی۔(اسد الغابہ (18) جب کسی مسلمان کے ہاں لڑکا یا لڑکی پیدا ہو تو اس کے جسم کی صفائی کر کے سب سے پہلے اس کے کانوں میں اسلامی اذان کے الفاظ دہرائے جائیں۔ان الفاظ میں قرآنی تعلیم کا خلاصہ آجاتا ہے۔ولادت کے بعد بچے کے کانوں میں ان الفاظ کے دہرانے میں یہ ارشاد مقصود ہے کہ بچے کے دل میں دین کی تعلیم کا پختہ نقش قائم ہو جائے۔بچے کے کان میں کوئی نیک اور بزرگ انسان اذان دے تاکہ نیک اثرات مرتب ہوں۔نیک اور بزرگ انسان کے خیالات کا بچے پر اچھا اثر پڑے گا۔نفسیاتی نکته نیز اس سے والدین کو سمجھایا گیا ہے کہ بچے کی تربیت کا زمانہ اس کی پیدائش سے شروع ہو چکا ہے گو اس وقت بچے کی آنکھیں اور کان پوری طرح کام نہیں کر رہے اور بچہ بظاہر سمجھ نہیں سکتا لیکن یہ نفسیاتی نکتہ ہے کہ بچہ پیدا ہوتے ہی اپنے ماحول کا اثر قبول کرنا شروع کردیتا ہے اس لئے ماں باپ اور بڑوں کے لئے ضروری ہے کہ اس کی پیدائش کے وقت سے ہی اس کے ماحول کو پاک صاف رکھیں کیونکہ بچے نے ان کے ہی الفاظ سُننے اور سیکھنے ہیں۔ان کے منہ سے پاک اور متبرک الفاظ ہی بچے کے سامنے نکلنے جائیں فحش کلامی اور جھوٹ اور لغو گفتگو سے بچے کے سامنے پرہیز کیا جائے اور اسے پاکیزہ لوریاں اور دُعائیہ کلمات ت سے بہلایا جائے۔اذان شیطان کو دھتکار دیتی ہے اذان کے متعلق ہمارے آقا کا ارشاد ہے کہ اذان شیطان کو دھتکار دیتی ہے۔( بخاری ) اور اذان دے کر گویا بچے کو شیطان کے حملوں سے محفوظ رکھا گیا ہے۔عقیقہ جب بچہ سات دن کا ہو جائے تو اس کا عقیقہ کیا جائے اور بچے کا سر منڈوا دیا جائے اور اس کی طرف سے قربانی کی جائے۔قربانی لڑکی کی طرف سے ایک بکرا اور لڑکے کی طرف سے دو بکرے زیادہ پسندیدہ ہیں اور اگر لڑکا پیدا ہو تو اس کا ختنہ بھی کرایا جائے۔اس کے بعد حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کی ابتدائی تربیت کے اصول بیان فرمائے بچے کی ابتدائی تعلیم آپ نے فرمایا جب تمہاری اولاد بولنے لگے تو اس کو لا اله الا لله سکھاؤ۔پھر مت پرواہ کرو کہ کب مرے اور جب دودھ کے دانت گر جائیں تو نماز کا حکم دو۔ہمارے پیارے آقا بچوں کی نمازوں کی خاص طور پر نگرانی فرمایا کرتے تھے۔وہ فرماتے سات سال کی عمر کے بچے کو نماز پڑھنے کی ترغیب دینی چاہیے اور اس سے پہلے اس کو نماز کے الفاظ اور دعائیں یاد کرا دینی چاہئیں۔اور جب بڑا ہو جائے اور باہر اکیلے چلنے پھرنے کے قابل ہو جائے تو پیارے آقا نے ہدایت فرمائی ہے۔مُرُو اوْلَادَكُمُ بِالصَّلوةِ وَهُمْ أَبْنَاءَ سَبْعِ وَاضْرِبُوا هُمُ