حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 40
80 79 کھینچو تا کہ جب وہ بڑے ہوں تو انہیں کسی نئی تصویر کی ضرورت محسوس نہ ہو۔بلکہ ان کے بڑے ہونے کے ساتھ ہی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تصویر بھی بڑی ہو جائے جو اُن کی ماؤں نے اُن کے دلوں پر کھینچی تھی۔اس سے ساتھ ہی میں بڑوں سے بھی درخواست کرتا ہوں جو کوتاہی آپ لوگوں سے اب تک اس سلسلہ میں ہو چکی ہے اس کو دور کرو۔اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا ایسا اعلیٰ درجے کا نمونہ پیش کرو کہ دُنیا والوں کو اس جہان میں اس کے سوا اور کوئی چیز نظر ہی نہ آئے۔جیسے ایک شاعر نے کہا ہے۔جدھر دیکھتا ہوں اُدھر تو ہی تو ہے اسی طرح ان کی اخلاق میں ترقی کرتے کرتے ایسی حالت ہو جائے کہ کچھ عرصہ کے بعد ہم جدھر بھی دیکھیں سوائے محمد کے اور کوئی نظر نہ آئے۔خواہ وہ چھوٹا محمد ہو یا بڑا محمد۔اور یہ کیسی بات ہے کہ جب اس دُنیا میں محمد ہی محمد نظر آنے لگیں گے تو چونکہ محمدؐ اس دُنیا میں خدا تعالیٰ کی صفات کی ایک تصویر ہیں۔اسلئے دُنیا میں توحید کامل پیدا ہو جائے گی اور شرک باقی نہیں رہے گا۔کیونکہ جہاں خدا ہی خدا ہو وہاں شرک باقی نہیں رہتا۔از اسوۂ حسنہ تقریر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی صفحہ 138، 141) تربیت اولاد کے بارے میں والدین سے باز پرس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت اولاد پر بہت زور دیا ہے اور آپ نے بچوں کی پیدائش سے بھی پہلے اس کی تربیت کے آسان اور موثر طریق بیان فرماتے ہوئے فرمایا:۔كُلُّكُمْ رَاعٍ وَّ كُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيته چالیس جواہر پارے صفحہ 148 حدیث نمبر 38) تم میں سے ہر ایک بادشاہ ہے اور اپنی رعیت کا ذمہ دار ہے اور ہر شخص اپنے دائرہ کے اندر ایک حاکم کی حیثیت رکھتا ہے اور تم میں سے ہر ایک کو اپنے ماتحتوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔ہر شخص اپنی رعیت کا خدا تعالیٰ کے رو برو جواب دہ ہوگا۔اس ارشاد سے آپ نے ہر ماں ہر باپ ، ہر بھائی ، ہر چا ، ہر دادا، خاندان کے ہر بڑے بزرگ اور ہر اُستاد کے ذمہ لگا دیا ہے کہ تم بچوں کے اخلاق عادات اور تعلیم کے خدا کے روبرو ذمہ دار ہو۔تم سے سوال کیا جائے گا کہ کیوں فلاں نیکی اُن میں موجود نہیں اور کیوں ترقی کی اہلیت کے باوجود انہوں نے ترقی نہیں کی۔اور کیوں مقدرت کے باوجود تعلیم اُن کے مناسب حال ان کو نہیں دی۔بچے کی پیدائش پر ارشادات احادیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے تو اس کو ام الصبیان کی بیماری نہیں ہوتی۔حضرت حسنؓ کی پیدائش الجامع الصغير جلد 2 صفحہ 182 حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہ کے ہاں جب حضرت حسنؓ پیدا ہوئے تو ولادت کی خبر سُن کر آپ تشریف لائے اور فرمانے لگے بچے کو دکھاؤ۔بچے کو منگوا کر اس کے کانوں میں اذان دی۔اپنا لعاب دہن حسنؓ کے منہ میں ڈالا