حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 36 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 36

72 71 علیحدہ خطاب اس طبقے کی تربیت کے لئے حضور ان کو مردوں سے علیحدہ خطاب فرماتے۔انہیں دینی امور میں قربانی کی تلقین کرتے۔اور صحابہ کو ان سے حُسن سلوک کی تلقین فرماتے۔(سیرت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم 245) محبوب ترین اور سب سے بڑھ کر یہ کہ محبوب خدا نے یہ فرمایا کہ اے لوگو! مجھے تمہاری دُنیا میں سے دو چیزیں بہت پسند ہیں۔ایک خوشبو اور دوسری عورت اور اُسے اپنی محبوب ترین ہستی قرار دے کر اسے آسمانوں تک رفعت عطا فرما دی اور طبقہ نسواں کی ہستی کو چار چاند لگا دئے۔پس یہ ہے میرا متن را مشفق آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیج درود اُس محسن پر تو دن میں سوسو بار پاک محمد مصطفی نبیوں کا سردار کتنا اعلیٰ اُسوہ تھا جو ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا جس کی نظیر ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل سکتی۔صَلِّ عَلَى نبينا صَلِّ عَلَى محمد والدین کی تربیت اور اصلاح کے لئے ہدایات یہ تو تھیں پیارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت و محبت بچوں اور اُن کی ماؤں کے ساتھ اور بچوں کی اپنے دل و جان سے پیارے آقا کے ساتھ محبت وعقیدت کی داستانیں۔اب ہم پیارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و شفقت ایک اور زاویے سے مشاہدہ کرتے ہیں۔اور آپ کی عطا کردہ پر حکمت تعلیم بیان کرتے ہیں جو آپ نے نہ صرف بچوں بلکہ ان کے والدین کی تربیت و اصلاح کے لئے قرآن کریم کی روشنی میں عطا فرمائی۔اور آج کے دور میں اگر کوئی بہترین نظام عمل ہے تو وہ صرف اور صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی طریق عمل ہے جو ہمیں قرآن کریم سے ملتا ہے۔جیسا کہ حضرت عائشہ نے فرمایا ہے۔کــان خـلـقـه القرآن که رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی قرآن کریم کی عملی تصویر تھی۔نیز آپ نے ہر شعبہ زندگی میں واضح طور پر اُسوہ حسنہ عطا فرمایا ہے۔والدین کو تلقین آپ ﷺ نے اپنے پاک نمونے سے والدین کو تلقین فرمائی کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری قومی زندگی لمبی ہو اور اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری اولا د نسلاً بعد نسل اسلامی تعلیم پر عمل پیرا رہے تو اپنے بچوں کی نگرانی سے غفلت نہ برتو اور ان کے اندر اچھے اخلاق اور عمدہ اوصاف اور بہتر عادات پیدا کرنے کے کوشش کرتے رہو اور ہر آن یہ دُعائیں پڑھتے رہو۔اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک ہو رَبَّنَاهَبُ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إمَاماً (الفرقان : 75) یعنی اے ہمارے رب تو ہم کو ہماری بیویوں اور بچوں کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرمادے اور ہمیں متقیوں اور پرہیز گاروں کا امام بنا۔اور یہ تب ہی ممکن ہے جب کہ اولاد نیک ہو اور متقی ہو۔تب ہی یہ ان کا امام ہوگا اس سے گو یا متقی ہونے کی بھی دعا ہے۔ہمیں یہ دعائیں