حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 35
70 69 عورت نیک اعمال بجا لائے گی تو وہ بھی اسی طرح جنت میں جائے گی جس طرح نیک اعمال بجا لانے والا مرد۔اور پھر آپ نے یہ فرما کر کہ آدھا دین عائشہ سے سیکھو نصف دین سیکھنے کے لئے تمام مرد و زن کو حضرت عائشہ کا مرہونِ منت بنا دیا۔اور اسطرح انسان کی صحیح تربیت میں آدھا حصہ عورت کا ہے۔وو ( بخاری ) الجنة تحت اقدام الامهات جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے ماؤں کے مقدس رشتہ کو اہمیت عطا فرما کر دنیا کے ہر مرد، ہر عورت، ہر بچے کے لئے اس کی اطاعت اس کی خدمات اور حسن سلوک کے صلے میں ماں کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی۔بیٹیوں اور بہنوں کے حقوق قائم کئے۔حجۃ الوداع کے موقع پر مردوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا فَاتَّقُو الله في نِساءِ كُمُ عورتوں کے بارے میں تقویٰ سے کام لو اور ان کا احترام کرو ان کے حقوق کا خیال رکھو۔آپ کے اس پُر شفقت اور احسان بھرے سلوک سے باغ اسلام کی کلیوں نے ہمیشہ کی زندگی پائی ہاں ہاں ان ننھی کلیوں نے جنہوں نے کل کی مائیں بننا ہے اور اسلام کے فاتح اور مستقبل کے معماروں کی پرورش کرنی ہے۔ان کا تحفظ فرمایا۔ان کا مرتبہ بلند کیا۔اس کو زندہ رہنے اور باعزت زندگی گزارنے کا حق دلایا اس کا گھر کے معاملات میں کوئی دخل نہ تھا اس کو گھر کی مالکہ قرار دیا حتی کہ ان سب کے لئے ورثہ کا حق قائم کیا۔ورنہ اسلام سے پہلے کسی مذہب نے عورت کا ورثہ قائم نہیں کیا۔مسلمان عورتوں کے لئے خدمتِ دین کے لئے مواقع فراہم کئے۔اور انہوں نے مردوں کے دوش بدوش کار ہائے نمایاں انجام دیئے۔ورنہ اسلام سے پہلے دنیا کے پردہ پر عورتوں سے بڑھ کر کوئی مظلوم مخلوق نہ تھی۔عورتوں کے ساتھ حیوانوں سے بھی بدتر سلوک روا رکھا جاتا تھا۔یہ مخلوق کسی عزت کی مستحق نہ سمجھی جاتی تھی۔اس کا کوئی مقام نہ تھا اس کا کوئی حق نہ تھا۔بچوں کی تربیت کرنے والی ہستی پر بے مثال شفقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنہیں اللہ تعالیٰ نے رحمت اللعلمین بنایا ހނ ہے اس مظلوم طبقہ کے لئے محسن اعظم بن کر آئے اور آپ نے خواتین حسنِ سلوک کا اپنا اعلیٰ اور پر حکمت اسوہ حسنہ پیش فرمایا۔عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم خَيْرُكُمْ خَيْرُ كُمْ لِاهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لَا هُلِي حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اے لوگو تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے۔اور میں تم سب سے اچھا اور بہترین سلوک کرنے والا ہوں۔بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کو اسلام میں بہت نمایاں درجہ حاصل ہے۔کہ تم میں سے خدا کی نظر میں، بہتر انسان وہی ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ سلوک کرنے میں بہتر ہے۔اس فرمان کے ساتھ آپ نے مسلمان عورتوں کے ازدواجی حقوق کو بہت ہی اعلیٰ معیار پر قائم کردیا۔مثالی سلوک حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔آپ تشریف لاتے تو گھر کے کام کاج میں بیویوں کا ہاتھ بٹاتے۔آپ کا سلوک بیویوں کے ساتھ مثالی تھا۔