حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 12
24 23 بچوں کو بھی بلاؤ وہ آئے تو آپ نے کھانا شروع کیا۔( مسند احمد بن حنبل جلد 6 ، 797، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم 257) پیارے آقا کے پیارے نواسے حضرت حسن اور حضرت حسین کی فراست درست وضو کا دلچسپ اور انوکھا واقعہ رض ย حضرت حسن اور حسین حضرت علی اور حضرت فاطمہ کے بیٹے اور رسول پاک کے نواسے تھے۔ایک دن وہ مسجد میں بیٹھے تھے ایک بزرگ نماز پڑھنے کے لئے آئے اور وضو کرنے لگے۔حضرت حسن اور حسین نے دیکھا کہ اُن بزرگ کو وضو کرنا نہیں آتا دونوں نے مشورہ کیا کہ اُن بزرگ کو وضو کا درست طریقہ سکھایا جائے۔مگر وہ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ یہ بزرگ ہیں اور ہم بچے ہیں۔آخر ایک ترکیب سوجھی۔دونوں اس بزرگ کے پاس گئے اور حسین نے کہا باباجی آپ ہمارا فیصلہ کردیں بزرگ شخص نے حیران ہوکر ان کی طرف دیکھا اور پوچھا کس بات کا فیصلہ۔حسن نے کہا بابا میں حسن ہوں اور یہ میرا بھائی حسین ہے۔یہ کہتا ہے کہ میرا وضو کا طریقہ ٹھیک ہے۔اور میں کہتا ہوں میرا وضو کا طریق ٹھیک ہے ہم دونوں آپ کے سامنے وضو کرتے ہیں آپ دیکھ کر فیصلہ کر دیجئے کہ کس کا وضو درست یہ کہہ کر حضرت حسنؓ اور حسین دونوں اس بزرگ شخص کے سامنے بیٹھ گئے اور وضو کرنے لگے۔بزرگ شخص ان کی طرف غور سے دیکھتے رہے۔جب وہ وضو کر چکے تو بزرگ شخص نے محبت سے ان دونوں کے ہاتھ تھام ہے۔لئے اور کہا! بیٹا تم دونوں کا وضو درست ہے میرا غلط تھا۔اس طرح بڑے عمدہ طریق سے بزرگ آدمی کو وضو کا درست طریق سکھا دیا۔( تشخیذ الاذہان 1973) سب سے زیادہ محبوب حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اہل بیت میں سے مجھ کو حسن اور حسین سب سے زیادہ محبوب ہیں۔آپ کو حسین سے جو محبت تھی اس کا آپ نے اظہار بھی کیا اور اعلان بھی تاکہ بعد میں آنے والے لوگ بھی اُن سے محبت کریں۔( تفخیذ الاذہان 1973) بچہ پیاس سے نڈھال ہو گیا حضرت ابو جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت چھوٹی عمر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھے کہ ان کو شدید پیاس محسوس ہوئی۔پانی تلاش کرایا گیا مگر اس وقت کہیں پانی نہ ملا۔ادھر بچہ پیاس سے نڈھال ہو رہا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً اپنی زبان حسن کے منہ میں ڈال دی۔چنانچہ وہ زبان اقدس چوس کر سیراب ہو گئے اور ان کی وہ تکلیف دہ کیفیت جاتی رہی۔(ابن عساکر) (الفضل 14 دسمبر 1974 ص 3) لعاب مبارک کی برکت سے پانی مل جاتا جناب ابوعبد نحوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عامر بن کریز اپنے بیٹے عبداللہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے جب کہ آپ کی عمر پانچ سال تھی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ میں لعاب مبارک ڈال دیا۔اس کی برکت یہ ظاہر ہوئی کہ پانی کی ضرورت