سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 1
لله حضرت عمر رضي عنه حضرت عمر حضرت عمر بن الخطاب دلیر اور بہادر حضرت عمرؓ خلفائے راشدین میں سے دوسرے خلیفہ تھے۔اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ جو ایک وقت رسول اللہ علیہ کو شہید کرنے کے لئے جاتے ہیں دوسرے وقت وہی عمر دین کی سربلندی کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیتے ہیں۔مکہ میں آپ کی دلیری اور بہادری کے چرچے تھے۔اسی بناء پر ابو جہل نے آپ کے ذریعہ سے رسول اکرم کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنایا۔لیکن اللہ تعالیٰ جو آپ کے کردار کی عظمت اور فطری نیکی سے آگاہ تھا اُس نے آپ کی راہنمائی درست سمت میں کر دی اور آپ رسول کریم کے نور کو پہچان کر آپ کے ساتھ ہو گئے اور پھر یہ تعلق اور محبت اس قدر بڑھا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اسی محبوب کے غلام ہو گئے۔خدمت دین کی تڑپ، غیرت ، دلیری، بہادری اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول سے سچی محبت آپ کے نمایاں اوصاف تھے اور یہی اوصاف حمیدہ انسان کو خدا تعالیٰ کا محبوب بنا دیتے ہیں۔آپ بھی اللہ تعالیٰ کے محبوب اور پیارے بندوں میں سے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین کی خدمت اور سر بلندی کے لئے غیر معمولی مواقع بھی عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کی پاک یادوں اور نیکیوں کو ہمیشہ ہم سب کی زندگیوں میں جاری رکھے۔