حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ — Page 19
35 34 نہیں۔احادیث کی بھی بہت سی دعا میں یاد تھیں جو اکثر پڑھا کرتے تھے۔“ تلاوت قرآن کریم حضرت نواب صاحب صبح کی نماز سے قبل قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور فرمایا کرتے تھے کہ قرآن مجید ایک سمندر ہے جو کوئی بھی اس بحر میں غوطہ زنی کرے گا خالی ہاتھ نہ لوٹے گا، کچھ نہ کچھ حاصل کرے گا۔آپ تلاوت قرآن کریم کثرت سے کرتے اور بعض نکات کے معلوم ہونے پر ان کے متعلق علماء سلسلہ سے تبادلہ خیالات کرتے گویا قرآن کریم کی تلاوت آپ کی غذا تھی۔ڈائری نویسی حضرت نواب صاحب معمولاً ڈائری لکھنے کا التزام نہ فرماتے لیکن عرصہ ڈائری آپ نے لکھی ہے اس سے آپ کی سیرت و شمائل کا ایک قیمتی حصہ خود آپ کے قلم سے ہمارے سامنے آتا ہے۔آپ ڈائری میں چھوٹے بڑے امور کو محفوظ کرتے۔آپ نے اپنی زندگی کا ایک لائحہ عمل بنایا ہوا تھا۔اس پر مداومت کرتے اگر کسی دن روزانہ معمولات میں فرق آجا تا تو اس کا ذکر بھی کرتے۔اس ڈائری سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے وقت کا اکثر حصہ یا تو عبادت و تلاوت قرآن کریم میں گزرتا یا دعوت الی اللہ اور بعض اوقات اہم امور میں مختلف احباب سے تبادلہ خیالات میں۔یہ امور عموماً جماعتی نظام کے استحکام کے متعلق ہوتے تھے۔سلسلہ کی وسعت اور قومی استحکام کے متعلق آپ کو بڑا درد رہتا تھا۔آپ کی زبر دست خواہش ہوتی تھی کہ حضرت مسیح موعود کے ایام زندگی میں جماعت عملی رنگ میں ایک بلند مقام پر پہنچ جائے۔آپ کی ڈائری نویسی سے ایک بات یہ ظاہر ہوتی ہے کہ اس میں واقعات کو بالکل صحیح اور سادہ رنگ میں ظاہر کیا ہے۔تکلف نہیں مثلاً اگر نماز میں دیر ہو گئی تو اس کا اخفاء نہیں کیا گیا جس سے ان کی صداقت پسندی اور محبت صدق کا اظہار ہوتا ہے۔ڈائری سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ بچوں کی تعلیم وتربیت کے لئے بھی آپ کچھ نہ کچھ وقت دیتے تھے۔اس سے بچوں کے ذاتی رجحان اور اخلاق کی درستی میں مددملتی ہے۔ن آخری علالت اور وفات حضرت نواب صاحب کی آخری علالت لمبا عرصہ رہی۔اس بیماری میں آپ کامل سکون کے ساتھ زندگی کے کاموں میں مصروف رہتے اور احباب جماعت سے اسی خندہ پیشانی سے ملتے۔بیماری کا سلسلہ تو بہت پرانا تھا تا ہم آخر پر پیشاب میں خون آنے لگا۔اس کیلئے ہر قسم کے علاج کئے گئے مگر کچھ افاقہ نہ ہوا۔آخر 10 فروری 1945ء کو بعمر 75 سال حضرت نواب صاحب کا انتقال