حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ

by Other Authors

Page 13 of 21

حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ — Page 13

23 22 راسخ الاعتقاد مومن حضرت نواب صاحب کو ایک فطرتی جوش طلب حق کا تھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی جرات عطا فرمائی تھی کہ جو بات ان کی سمجھ میں نہ آتی، اس کے متعلق سوال کرنے سے کبھی مضائقہ نہ کرتے تھے۔حضرت مسیح موعودؓ فرماتے تھے کہ اگر کسی کو کوئی اعتراض پیدا ہو تو فوراً پیش کرنا چاہئے۔حضرت نواب صاحب کی زندگی ایک راسخ الاعتقاد عملی مومن کی زندگی تھی۔وہ کوئی امر جس کی اسوۂ حضرت نبی کریم میں نظیر نہ ہوا ختیار نہیں کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود کی محبت میں سرشار تھے اور آپ کے احکام کی اتباع اپنا فریضہ سمجھتے تھے۔رشوت سے نفرت حضرت نواب صاحب کی زندگی ایک مرد مومن کی عملی زندگی کی تصویر ہے۔آپ رشوت سے بہت نفرت کرتے تھے۔جب مالیر کوٹلہ ریلوے برانچ جاری ہوئی تو آپ نے اس لائن پر کچھ کام بطور ٹھیکہ لے لیا۔وہ کام دراصل آپ کے ایک خاص امتیاز کے اظہار کا موجب ہوا۔آپ سے چاہا گیا کہ ان انجینئروں یا افسروں کو جو اس کام کے پاس کرنے والے تھے کچھ روپیہ دے دیں۔آپ نے اسے رشوت قرار دیا اور صاف انکار کر دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو خطرناک مالی نقصان ہوا مگر آپ نے اس کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہ کی۔آپ نہایت عالی حوصلہ اور مستقل مزاج بزرگ تھے۔اپنے مقام ومرتبہ کے باوجود طبیعت نہایت منکسر المزاج تھی۔فطری سخاوت آپ کی فطرت میں سخاوت کا طبعی جوش تھا اور بسا اوقات آپ اپنی ضرورتوں پر دوسروں کو مقدم کر لیتے تھے۔جماعت کے غرباء آپ کی فیاضیوں سے آسودگی کی زندگی بسر کرتے تھے۔آپ کبھی غمزدہ اور فکر مند نہ ہوتے تھے۔ہمیشہ چہرہ پر خوشی اور مسرت رہتی تھی اور اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل اور بھروسہ تھا۔سلسلہ کے کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔مدرسہ تعلیم الاسلام کے اخراجات اپنی ڈائریکٹری کے زمانہ میں ایک عرصہ تک چلاتے رہے اور جب حضرت اقدس نے خود محسوس فرمایا کہ مالی ابتلاء نہ آ جائے تو انتظام دوسرے ہاتھوں میں منتقل کر دیا۔صدرانجمن کے کاموں میں اپنی رائے پر مستقل رہتے تھے۔فتنہ ملکانہ ( جہاں ہندوؤں نے شدھی تحریک چلائی تا مسلمانوں کو ہندو بنایا جائے ) کے وقت آپ نے اپنی خدمات پیش کیں۔بہترین سیرت کے مالک حضرت نواب صاحب حد درجہ کا اخلاص رکھتے تھے جو آپ کی دعوت الی اللہ کی جدو جہد اور مالی خدمات سے ظاہر ہوتا ہے۔آپ ابدال کے رنگ میں بہترین