حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ — Page 12
21 20 ایک تاریخی سعادت حضرت مسیح موعود نے حضرت نواب صاحب کو خط بھجوایا کہ قادیان آتے ہوئے اپنا فونوگراف ( پرانے زمانے کا ٹیپ ریکارڈر ) ساتھ لیتے آئیں تا کہ غیر ممالک میں دعوت الی اللہ کی غرض سے کچھ پیغام بھرے جائیں۔چنانچہ حضرت نواب صاحب فونوگراف قادیان لائے اور حضرت مسیح موعود کی نظم ے آواز آرہی ہے یہ فونو گراف ހނ اور کچھ دیگر نظمیں اور تقریریں بھری گئیں۔حضرت نواب صاحب کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ ان کے فونوگراف میں غیر ممالک میں دعوت الی اللہ کے لئے پیغام ریکارڈ کیا گیا۔حضرت مسیح موعود کی خدا تعالیٰ نے غیر ممالک میں دعوت الی اللہ کی یہ خواہش ایم ٹی اے کی صورت میں پوری فرمائی جس کے ذریعہ سے آج دنیا بھر میں خدائے واحد کا پیغام پھیل رہا ہے۔آپ ایک مردم شناس، قدردان، معاملہ فہم اور وفادار بزرگ تھے۔خدا تعالیٰ نے آپ کو قلب سلیم اور دماغ فہیم عطا فر مایا تھا۔اس لیے آپ ہر مسئلہ کی تحقیق خود کرتے تھے۔تعصب اور غصہ ہر گز نہ تھا۔سچ کے قبول کرنے پر ہر وقت آمادہ رہتے تھے۔ابتدائی مذہبی تعلیم کے بعد لاہور کے ایچی سن کالج میں داخل ہوۓ جو حکومت نے رؤسائے پنجاب کے بچوں کے لئے قائم کیا تھا۔حضرت نواب صاحب با وجود ایک طالبعلم ہونے کے کالج کے طلبہ میں ہر دلعزیز ہی نہ تھے بلکہ کالج کے پروفیسر بھی نواب صاحب کی قوت عمل اور بلندی کردار کی وجہ سے ان کی قدر کرتے تھے۔علم دوست شخصیت آپ ایک علم دوست شخصیت تھے۔آپ کا روپیہ ہمیشہ نیک کاموں میں خرچ ہوا۔خواتین کی اصلاح کے لئے آپ نے ایک انجمن مصلح الاخوان قائم کی اور ایک سکول قائم کیا۔جس کے کل اخراجات آپ اپنی جیب سے ادا کرتے تھے۔حضرت نواب صاحب کو 1888ء میں سرسید احمد خان صاحب کے کام اور تعلیمی نظام سے دلچسپی پیدا ہوگئی۔آپ سرسید کی مساعی میں دل کھول کر چندہ دیا کرتے تھے۔اور سرسید ان کے مداح تھے اور ان کے باہمی گہرے تعلقات تھے۔علی گڑھ کے سٹریچی ہال کی تعمیر کے لئے جن ایک سو احباب نے پانچ پانچ سور و پریہ چندہ دیا تھا اس کی یادگاری تختی پر حضرت نواب صاحب کا نام تیسرے نمبر پر کندہ کیا گیا۔آپ کو تعلیم کی عام ترویج کا بہت شوق تھا۔مدرسہ احمدیہ کے لئے کئی مرتبہ مالی تعاون کیا اور آپ ہی کی عالی ہمتی سے قادیان میں کالج کا قیام ہوا۔آپ کو مدرسہ احمدیہ اور کالج کے امور میں بہت شغف رہتا تھا۔