حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 8
13 12 ہوا ہے کہ اس کی یاد اس طرح تازہ ہے کہ جیسے کچھ ہی دیر قبل کی بات ہو۔ایک دفعہ ہم آپ کے یہی رحمدلی کا جذبہ جانوروں کے ساتھ بھی نمایاں نظر آتا تھا۔اکثر چڑیوں وغیرہ کو دانہ ساتھ لاہور گئے۔کار کا ڈرائیور چند دن پہلے ہی ملازمت میں آیا تھا۔آپ نے اسے بہت سا اپنے ہاتھ سے ضرور ڈالتے تھے۔قادیان میں ان کے گھر بلیاں آجاتی تھیں۔ان کے لئے رو پیدا خراجات کے لئے دیا اور آپ کی اجازت سے وہ ہماری ضروریات پر خرچ کرتا تھا۔لاہور قصائی کے ہاں سے باقاعدہ چھیچھڑے آتے تھے۔دودھ مقرر تھا۔آپ خود سامنے کھلواتے اور سے مراجعت پر اس نے جو حساب دیا۔تو اس میں قریباً ایک سور و پیہ کا غبن نکلا۔چنانچہ آپ کے بے حد خیال رکھتے۔سختی سے پوچھنے پر اس نے تسلیم بھی کر لیا۔اس پر آپ نے اسے سخت ست کہا اور کہا کہ اگر شام کو کہیں سے حساب پورا نہ کرو گے تو میں تمہارا معاملہ پولیس کے سپر د کر دوں گا۔چنانچہ وہ چلا گیا۔انفاق فی سبیل الله آپ نے کئی بار اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں خوب دولت پیدا کروں کو خرچ کر کے اس بات کو عملی رنگ میں ثابت کیا کہ خدا کے مقربین اور متقی لوگ جو کچھ خدا نے شدید ترین حمله مرض شام کو کہیں سے روپیہ لے کر آ گیا۔آپ اس وقت باغ میں ٹہل رہے تھے اور پاس ہی میں کھیل اور خدا کی راہ میں خوب چندے دوں۔آپ نے اپنی ساری زندگی میں خدا کی راہ میں اپنے مال رہا تھا۔جب اس نے روپیہ آپ کو دیا تو میں نے دیکھا کہ روپیہ چھوٹے چھوٹے نوٹوں کی شکل میں تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ وہ جگہ جگہ سے مانگ کر اکٹھا کر کے لایا ہے۔آپ نے روپیہ لے لیا۔تو ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔اسے کہا کہ تم نے نہایت ہی گندی حرکت کی ہے۔اگر ضرورت تھی تو مجھ سے مانگ لیا ہوتا۔ایسی اخلاق سے گری ہوئی حرکت کی سزا یہ ہے کہ تم نوکری سے فارغ ہو اور ابھی نکل جاؤ۔ابھی والد صاحب نے اپنی بات پوری نہیں کی تھی کہ ڈرائیور رو پڑا اور کہنے لگا۔نواب صاحب! میں بیوی بچوں والا ہوں۔ضرورت انسان کو بہت سے گرے ہوئے کام کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔آپ جبکہ ڈاکٹر بھی مایوس تھے ، سیدنا حضرت مصلح موعود کو نومبر 1950ء میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی مجھے معاف کر دیں۔میں آئندہ ایسی حرکت کبھی نہیں کروں گا۔آپ یقین کریں۔میں نے یہ صحت یابی کی اطلاع دی جو کہ پوری ہوئی۔آپ اس دورہ کے بعد 13 سال اور حضرت مصلح روپے گھر گھر مانگ کر اکٹھے کئے ہیں۔اس کا یہ کہنا تھا کہ آپ کا غصہ یک لخت فرو ہو گیا اور آپ موعود کے کشف کے بعد گیارہ سال زندہ رہے۔نے آہستہ آہستہ ٹہلنا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ اسے نصیحت آمیز رنگ میں سمجھاتے بھی جاتے تھے اور ٹہلتے ٹہلتے اس کے قریب پہنچتے تو پانچ یا دس کا نوٹ اس کے ہاتھ میں تھما دیتے اور پھر میں نے دیکھا کہ نوٹوں کی وہ تھی آہستہ آہستہ تمام کی تمام دوبارہ اس ڈرائیور کے ہاتھوں میں منتقل ہو 1949ء میں آپ کو دل کا دورہ پڑا۔کئی سال تک بیم و یاس کی حالت رہی۔ان ایام میں حضرت مصلح موعود اپنے کشف کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں صبح کی نماز کے وقت نماز پڑھ کر لیٹ گیا۔بالکل جاگ رہا تھا کہ کشفی طور پر دیکھا کہ کمرہ کے آگے برآمدہ میں میاں عبداللہ خان صاحب چار پائی سے اتر کر گئی اور والد صاحب خالی ہاتھ نہیں بلکہ رحمدلی کے بدلہ رحمت الہی کے ڈھیروں ڈھیر لے کر گھر زمین پر کھڑے ہیں۔میں ہی ان کے سامنے ہوں۔ان کو جو کھڑے دیکھا تو اس خیال وا پس آگئے۔اور اس کی غربت پر رحم کھا کر یہ رقم اسے معاف کر دی۔گو اس کی بد دیانتی کی وجہ سے اسے پھر ملازمت میں رکھنے کا خطرہ مول نہیں لیا۔سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت بخشی ہے بے اختیا ر منہ سے الحمد للہ نکلا۔اور پھر جیسا کہ عام طور پر ہمارے ملک میں نظر لگ جانے کا وہم ہوتا ہے مجھے بھی اس وقت خیال آیا