حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 7
11 10 ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ میں نے کبھی اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا کہ گو وہ میری wife ہیں مگر حضرت مسیح موعود کی بیٹی اور شعائر اللہ میں سے ہیں۔میں تو محسوس کرتا ہوں کہ میں کما حقہ ان کی قدر نہیں کر سکا۔اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے کہ میں ان کا تا زندگی کامل طور پر احترام کرتا رہوں۔“ اسی طرح وصیت میں اپنی اولاد کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ” میری دعاؤں اور نیک خواہشوں کا وہی بچہ حقدار ہوگا جو اپنی ماں کی خدمت کو جز و ایمان اور فرض قرار دے گا۔پس جو بچے میرے بعد ان کو خوش رکھیں گے اور ان کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ان کیسا تھ میری دعا ئیں اور نیک آرزوئیں ہوں گی۔جو بچے ان کو ناراض کریں گے وہ میری روح کو دکھ دیں گے میں ان سے دور وہ مجھ سے دور ہوں گے۔“ 66 (( رفقاء ) احمد جلد 12 صفحہ 95,96) اپنی اراضی سندھ کے مختار عام منشی عزیز احمد صاحب کو ایک دفعہ فرمایا کہ ”میری زندگی کا کیا اعتبار ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ ایسی حالت میں مجھے اگر زندگی کی خواہش ہے تو صرف اور صرف اس لئے ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ مہلت دے تو بقیہ زندگی بیگم صاحبہ کی خدمت کر کے ان کی خدمت کا کچھ صلہ ادا کرسکوں۔“ ہمدردی مخلوق آپ ایک جگہ فرماتے ہیں۔(( رفقاء ) احمد جلد 12 صفحہ 131) لین دین میں قطعا زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔آپ احتیاط کرتے ہوئے بے شک میرا حصہ کسی ہاری کو دے دیں لیکن کسی ہاری کا حق میرے لئے حاصل نہ کریں۔میں ہر ایک ایسی چیز کو جو کہ ناجائز طور پر حاصل کی جاتی ہے جہنم کی آگ کا ایندھن تصور کرتا ہوں۔میں تمام ہاریوں کے رو برو آپ لوگوں کو کہتا ہوں کہ ایسی چیز جو کہ جبر سے، زیادتی سے ہاریوں سے آپ لوگ حاصل کریں گے میں اس سے بری ہوں۔اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے جواب دہ آپ لوگ ہوں گے میں نہیں ہوں گا۔اگر کسی پر زیادتی ہوتی ہے۔میرے پاس آئیں، انشاء اللہ اس کا حق اس کو دلایا جائے گا۔“ ایک دفعہ آپ کے پاس ایک آدمی نے آ کر اپنی ضروریات کا ذکر کیا۔آپ نے اس سے دریافت کیا کہ کتنی رقم سے اس کی حاجت روائی ہو سکتی ہے۔بتانے پر اس شخص کو اس سے دگنی رقم کا چیک دے دیا۔ایک دفعہ ایک شخص کو اس کی مالی حالت سنوارنے کے لئے دکانداری کے لئے بہت سا روپیہ دیا۔اس سے وہ خرچ ہو گیا اور شرمندگی کے باعث بھاگ گیا۔آپ کو افسوس ہوا کہ بھاگنے کی اس کو ضرورت نہ تھی۔چند سال بعد اس سے ملاقات ہوئی تو نہایت شفقت سے اس سے پیش آئے جس سے اس کا خوف جاتا رہا۔کفالت یتامی 1918ء میں قادیان میں انفلوئنزا کی وبا پھیلی۔ایک رفیق حضرت حکیم محمد زمان صاحب شاگر د حضرت خلیفتہ اسیح الاول جو کہ حضرت نواب صاحب کے پاس مدت سے بطور خاندانی معالج کے تھے۔وہ بھی اسی بیماری میں مبتلا ہو کر راہی ملک بقا ہوئے اور بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔آپ کے پسماندگان ایک بیوہ ، ایک لڑکا اور چار لڑکیوں کی کفالت حضرت نواب صاحب موصوف نے اپنے ذمہ لے لی۔(( رفقاء) احمد جلد 12 صفحہ 135) مکرم خان شاہد احمد خان صاحب فرزند حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب آپ کی رحمدلی کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک واقعہ آپ کی رحمدلی کا میرے بچپن کے ذہن میں ایس نقش