حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 3 of 22

حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 3

3 2 صاحب نے بچپن میں سات پارے بھی حفظ کئے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ گھر میں ابتدائی تعلیم بھی جاری رہی۔غیر احمدی رشتہ کا ختم ہونا حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب اور میاں عبدالرحیم خان صاحب کے رشتے پہلے غیر حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت والد صاحب ( نواب محمد جب عمر تھوڑی زیادہ ہوئی تو مدرسہ کی زندگی شروع ہوئی۔اس زمانے کا نقشہ کھینچتے ہوئے احمدی رشتہ داروں میں طے ہوئے تھے جو کہ بعد میں ختم ہو گئے۔حضرت نواب عبد اللہ خان صاحب کے بھائی حضرت میاں عبدالرحیم صاحب بیان کرتے ہیں کہ وہ کیا زمانے تھے۔ہم بھائیوں میں سے ہر ایک کی سواری کے لئے ایک ایک گھوڑی تھی۔میری مشکی۔عبداللہ خان کی ”سبزہ۔عبدالرحمان کی کمیڈ۔ہر ایک کا الگ الگ سائیس تھا۔علی خان صاحب) نے مالیر کوٹلہ سے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں لکھا کہ میں پہلے بھی اس بات کا خواہش مند تھا کہ میرے لڑکوں کے رشتے احمدیوں میں ہوں تا کہ ان میں دینی جذ بہ قائم حضرت نواب صاحب بہترین شکاری ، اچھے کھلاڑی اور مدرسہ کی فٹ بال ٹیم کے ممبر بھی رہے اور وہ غیر احمدیوں کی طرف مائل ہوتے ہیں جو مجھے نا پسند ہے اب جو یہ رشتے ٹوٹے ہیں رہے۔بیڈ منٹن بھی بہت اچھی کھیل لیا کرتے تھے۔بچپن میں مرغیاں بھی پائی تھیں جس کی وجہ مجھے اس کی وجہ سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الاول نے فرمایا کہ مجھے تمہارے والد سے بڑی محبت ہے اور والد سے حضرت نواب محمد علی خان صاحب ان کو مرغی مینیجر کہتے تھے۔کوٹھی سے مدرسہ گھوڑیوں پر جاتے تھے۔کالج میں داخلہ صاحب کا خط دکھایا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تمہارے رشتے احمدیوں کے ہاں ہوں۔اور ان کو ان رشتوں کے ٹوٹنے کی وجہ سے بڑی تکلیف ہوئی ہے۔نوابوں اور رئیسوں کی طرف تم لوگ میٹرک میں آپ کے اساتذہ کی رائے تھی کہ یہ پاس نہ ہوسکیں گے اس لئے سکول کی نیک رغبت نہ کرو۔ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے عبرت کے طور پر قائم رکھا ہوا ہے۔تم مغرب اور عشاء کے نامی کے لئے انہیں کمرہ امتحان میں نہ بٹھایا جائے۔خود حضرت نواب عبد اللہ خان صاحب کی بھی در میان دورکعت نفل پڑھا کرو اور دعا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ نواب صاحب کی مالی تکلیف دور کرے یہی رائے تھی مگر آپ کو الہام ہوا مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى یعنی پھر خدا کے فضل سے آپ نے امتحان دیا اور کامیاب ہو گئے۔اس سے آپ کے خدا تعالیٰ سے تعلق کا بھی پتہ چلتا ہے۔اور اپنے رشتوں کے لئے بھی دعا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ بہتر جگہ کر دے۔حضرت نواب عبداللہ خان صاحب فرماتے ہیں کہ چونکہ حضرت خلیفہ اول جمعہ کے روز عصر سے مغرب تک اپنے گھر میں علیحدگی میں دعا کیا کرتے تھے اس لئے جماعت میں بھی ایسی رو چلی حضرت نواب عبداللہ خان صاحب کا لاہور کے کالجوں میں پڑھے ہوئے احمدی طلباء کے ہوئی تھی۔میں بھی کبھی جنگل کی طرف چلا جاتا تھا یا مکان پر ہی دعا کرتا۔ایک حصہ پر بڑا احسان ہے۔میٹرک کے بعد جب آپ لاہور کے گورنمنٹ کالج میں داخل ہوئے تو اس وقت احمدی طلباء مختلف کالجوں کے ہوسٹلوں میں رہتے تھے اور ان کے اکٹھے رہنے کا کوئی انتظام نہ تھا۔آپ نے دوڑ دھوپ کر کے ایک بہت اچھا مکان کرایہ پر لے کر احمد یہ ہوسٹل قائم کروایا۔بشارت الہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ بشارت دی کہ آپ کی شادی حضرت مسیح موعود کے گھر میں ہوگی۔چنانچہ آپ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز میں دو پہر کے وقت آرام کر رہا تھا کہ مجھے خواب میں کسی