حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 2
1 پیش لفظ حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے داماد اور عظیم رفیق حضرت نواب محمدعلی خان صاحب ریٹس مالیر کوٹلہ جیسے وجود کے فرزند ہیں جنہوں نے ہر قسم کی آسائش کو چھوڑ کر حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی قربت پانے کے لئے ایک چھوٹے سے حجرے میں رہنا پسند فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ آپ کے سلسلہ بیعت میں صرف غریب اور کمزور لوگ ہی شامل نہ ہوئے بلکہ ایسے افراد بھی کثرت سے شامل ہوئے جن کی مالی حیثیت بڑی مستحکم تھی اور دنیوی لحاظ سے بھی عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔لیکن جب قبول کر لیا تو پھر باہمی اخوت، محبت اور مساوات کا عظیم نمونہ دنیا کیلئے قائم کیا۔حضرت نواب عبداللہ خان صاحب ایسے ہی وجودوں میں سے تھے جنہیں بعد میں حضرت مسیح موعود کی دامادی کا شرف بھی حاصل ہوا اور دخت کرام حضرت صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ آپ کے عقد میں آئیں۔حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فدائی رفیق حضرت حجۃ اللہ نواب محمد علی خان صاحب کے صاحبزادے تھے جنہوں نے عین عنفوان شباب میں حضرت مسیح موعود کی بیعت کی توفیق پائی۔آپ کیکم جنوری 1896 ءکو پیدا ہوئے۔ابھی اڑھائی تین سال ہی کے تھے کہ والدہ کی شفقت بھری گود سے محروم ہو گئے۔حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب اپنے والد ماجد ( حضرت نواب محمد علی خان صاحب) کے ہمراہ اواخر دسمبر 1901ء میں ہجرت کر کے مالیر کوٹلہ سے قادیان آ گئے تھے۔اس طرح آپ کو تقریباً ساڑھے چھ سال تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاک صحبت میں رہنے کا موقع ملا اور لمبا عرصہ تک حضرت صاحب کی مہمان نوازی سے فیض یاب ہوئے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت نواب محمد علی خان صاحب کو یہ اعزاز بھی بخشا کہ خدا کے پاک مسیح نے اپنی صاحبزادی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو جن کے متعلق الہام ” نواب مبارکہ بیگم ہو چکا تھا آپ کے عقد میں دے دیا۔بچپن میں حضرت نواب عبد اللہ خان صاحب اور ان کے بھائی میاں عبد الرحیم خان صاحب کو حضرت پیر منظور صاحب موجد قاعدہ میسر نا القرآن نے قرآن مجید ناظرہ پڑھایا تھا اور ترجمہ قرآن آپ نے حضرت حافظ روشن علی صاحب سے پڑھا۔حضرت نواب محمد عبد اللہ خان