حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 20 of 22

حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 20

37 36 صاحب جو بہت پاک باطن بزرگ تھے کی طبیعت اس کاروبار سے نفرت محسوس کرنے لگی اور چند ہی ایام کے بعد آپ نے اس شراکت اور کاروبار سے علیحدگی اختیار کر لی۔آپ نے ساڑھے پانچ ہزار ایکڑ اراضی ضلع نواب شاہ میں حاصل کی تھی۔لیکن حضرت مصلح موعود کے ارشاد پر آپ نے اس کا تبادلہ کرا کے نصرت آباد والی اراضی حاصل کی اور حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کے ماموں زاد بھائی خان رشید علی خان صاحب جس دوست کو مینیجر مقرر کیا انہیں فرمایا کہ میرے اور آپ کے درمیان اللہ تعالی ضامن ہے۔بیان کرتے ہیں کہ والد محترم کی قادیان میں اراضی تھی جو کہ انھوں نے حضرت مرزا سلطان اگر آپ میر احق کسی کو یا کسی کا حق مجھے دیں گے تو بارگاہ الہی میں آپ ذمہ دار ہوں گے۔اس احمد صاحب مرحوم سے خریدی تھی اور سٹیشن کے قریب ہونے اور شہر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی منتظم کو بعض شرائط کے پورا کرنے پر سولہواں حصہ دینے کا وعدہ کیا تھا وہ شرائط پوری نہ ہوئی آبادی کی وجہ سے وہ زرعی سے سکنی بن گئی تھی۔اس اراضی کی فروخت کا والد صاحب نے اشتہار تھیں۔اس بناء پر عدم استحقاق کا مشورہ بعض احباب دیتے تھے لیکن آپ نے پھر بھی اپنا وعدہ دیا تو معلوم ہوا کہ بھائی جان مرحوم بھی اس کو خریدنے کے خواہش مند ہیں۔مجھے یاد ہے اس پورا کیا۔زمانہ میں ہمارے پھوپھا جان حضرت نواب محمد علی خان صاحب بیمار تھے۔جب والد صاحب کو پھوپھا جان کی بیماری کی خبر دہلی میں ملی تو وہ اس قدر بے چین ہوئے کہ فوراً قادیان روانہ ہو اللہ کا تقویٰ (( رفقاء ) احمد جلد 12 صفحہ 130) گئے۔خاکسار بھی ان کے ہمراہ قادیان گیا۔ان ہی ایام میں بھائی عبداللہ خان صاحب کی بات ایک دفعہ ایک کیس میں بیان تحریری دینے کے متعلق آپ کے قانونی مشیر نے ایک ایسی چیت اراضی کے متعلق ہوئی اور غالبا ساٹھ ہزار روپیہ میں زمین کا سودا طے ہو گیا اور جہاں تک بات تجویز کی جس سے مفہوم ابہام آمیز اور مفید مطلب ہوسکتا تھا اور اسے جھوٹ بھی نہیں کہا جا مجھے یاد ہے بھائی جان نے کچھ رقم بطور بیعانہ دے بھی دی۔چند روز بعد پھوپھا جان کی علالت سکتا تھا۔آپ نے مسکراتے ہوئے ان سے فرمایا لیکن کیا تقویٰ ہے؟ اس کے یہ کہنے پر کہ تشویشناک صورت اختیار کر گئی اور آپ کا انتقال ہو گیا۔کچھ دن ٹھہر کر والد صاحب نے یہ سمجھ کر اس طرح بلا وجہ لاکھوں کا نقصان ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔فرمایا ' خواہ لاکھوں کا نقصان کہ میاں عبداللہ خان کہ ذمہ داریوں کی نوعیت نواب صاحب کے انتقال کے بعد کچھ مختلف ہوگئی ہو۔میں تقوی اللہ کے خلاف کوئی اقدام نہیں کر سکتا۔“ ہے کہا کہ میاں اگر آپ سودا کو منسوخ کرنا چاہیں تو کر لیں۔مگر بھائی جان نے فرمایا کہ ماموں ان سے اشارہ یہ کہا گیا کہ ایسا بیان دینے میں کوئی حرج نہیں۔کیونکہ اس طرح ان کے کسی عزیز کا صاحب! میں نے یہ سودا جب آپ سے کیا ہے تو انشاء اللہ وعدہ کو نبھاؤں گا۔میرے تو تمام لاکھوں کا نقصان ہو سکتا ہے تو فرمایا: 'خواہ میرے کسی عزیز ترین عزیز کا لاکھوں روپیہ کا نقصان ہو اسی طرح کا ایک واقعہ حضرت صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ سے بھی تعلق رکھتا ہے جب سودے اللہ تعالیٰ کے تو کل پر ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر کام میں فائدہ ہی بخشتا ہے۔چنانچہ حسب جائے۔مگر میں کسی امر کے متعلق کوئی ایسا بیان دینے کو تیار نہیں کہ جس میں ذرہ بھی شک واشتباہ کا امکان پایا جائے۔صرف وہ بات کہ سکتی ہوں کہ جس کا مجھے ذاتی طور پر یقینی علم ہے۔“ حق گوئی کی برکت وعدہ 1946ء میں بقایا رقم ادا کر دی اور فرمانے لگے مجھے اس سودے میں بے حد منافع رہا اور میں نے پلاٹ بنا کر زمین سے خوب فائدہ حاصل کیا اور بہت اچھے داموں پر فروخت کی۔اس طرح خدا تعالیٰ تمام عمران کی نیک نیتی اور دیانت داری کی وجہ سے ان کو خوب نو از تارہا۔الفضل 22 اکتوبر 1961 ، صفحہ 3) مکرم و محترم خان شاہد احمد خان صاحب اپنے والد حضرت میاں محمد عبد اللہ خان صاحب کی