حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 7
11 10 غیر احمدی دوستوں نے کہا تم ہمیشہ ہمیں دعوت الی اللہ کرتے رہتے ہو۔فلاں جگہ مولوی ثناء فرماتے ہیں: اللہ صاحب آئے ہوئے ہیں تم بھی چلو اور انکی باتوں کا جواب دو منشی اروڑے خان (ایک) دوست نے بتایا کہ منشی اروڑے خان صاحب تو ایسے آدمی ہیں کہ یہ صاحب مرحوم کچھ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔دوران ملازمت میں ہی انہیں پڑھنے لکھنے کی مجسٹریٹ کو بھی ڈرا دیتے ہیں۔پھر اس نے سنایا کہ ایک دفعہ انہوں نے مجسٹریٹ سے کہا جو مشق ہوئی وہی انہیں حاصل تھی۔وہ کہنے لگے جب ان دوستوں نے اصرار کیا تو میں نے میں قادیان جانا چاہتا ہوں مجھے چھٹی دے دیں۔اس نے انکار کر دیا۔اس وقت وہ سیشن کہا اچھا چلو۔چنانچہ وہ انہیں جلسہ میں لے گئے۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے احمدیت کے حج کے دفتر میں لگے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا قادیان میں نے ضرور جانا ہے۔مجھے آپ خلاف تقریر کی اور اپنی طرف سے خوب دلائل دیئے۔جب تقریر کر کے وہ بیٹھ گئے تو منشی چھٹی دے دیں۔وہ کہنے لگا کام بہت ہے اس وقت آپ کو چھٹی نہیں دی جاسکتی۔وہ کہنے اروڑے خان صاحب سے ان کے دوست کہنے لگے کہ بتائیں ان دلائل کا کیا جواب ہے۔لگے بہت اچھا آپ کا کام ہوتا رہے گا میں تو آج سے ہی بددعا میں لگ جاتا ہوں۔آپ منشی اروڑے خان صاحب فرماتے تھے میں نے ان سے کہا یہ مولوی ہیں اور میں ان پڑھ اگر نہیں جانے دیتے تو نہ جانے دیں۔آخر اس مجسٹریٹ کو کوئی ایسا نقصان پہنچا کہ وہ سخت آدمی ہوں۔ان کی دلیلوں کا جواب تو کوئی مولوی ہی دے گا میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ ڈر گیا اور جب بھی ہفتہ کا دن آتا تو وہ عدالت والوں سے کہتا کہ آج کا کام ذرا جلدی بند میں نے حضرت مرزا صاحب کی شکل دیکھی ہوئی ہے وہ جھوٹے نہیں ہو سکتے۔کر دینا کیونکہ منشی اروڑے خان صاحب کی گاڑی کا وقت نکل جائیگا۔اس طرح وہ آپ منشی اروڑے خان صاحب شروع میں قادیان بہت زیادہ آیا کرتے تھے۔بعد میں ہی جب بھی منشی صاحب کا ارادہ قادیان آنے کا ہوتا انہیں چھٹی دے دیتا اور وہ قادیان چونکہ بعض اہم کام ان کے سپرد ہو گئے اس لئے جلدی چھٹی ملنا ان کے لئے مشکل ہو گیا تھا پہنچ جاتے۔“ مگر پھر بھی وہ قادیان اکثر آتے رہتے تھے۔ہمیں یاد ہے جب ہم چھوٹے بچے ہوا کرتے آقا کی محبت میں دیوانگی تھے تو ان کا آنا ایسا ہی ہوا کرتا تھا جیسے کوئی مدتوں بچھڑا ہوا بھائی سالہا سال کے بعد اپنے حضرت مصلح موعود آپ کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے والہانہ محبت اور دیوانہ وار کسی عزیز سے آکر ملے۔کپورتھلہ کی جماعت میں سے منشی اروڑے خان صاحب منشی عشق کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ظفر احمد صاحب اور منشی محمد خاں صاحب جب بھی آتے تھے تو ان کے آنے سے ہمیں بڑی خوشی ہوا کرتی تھی۔“ مجسٹریٹ ڈر گیا دو پھر انکی محبت کا یہ نقشہ بھی مجھے تبھی نہیں بھولتا جو گو انہوں نے مجھے خود ہی سنایا تھا مگر میری آنکھوں کے سامنے وہ یوں پھرتا رہتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے وقت میں بھی وہیں موجود تھا۔انہوں نے سنایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلو والسلام سے ایک دفعہ ہم نے عرض کیا کہ حضور بھی کپورتھلہ تشریف لائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ حضرت مصلح موعود حضرت منشی صاحب کا ذکر جاری رکھتے ہوئے آپ کی حضرت مسیح والسلام نے وعدہ فرمایا کہ جب فرصت ملی تو آ جاؤں گا۔وہ کہتے تھے ایک دفعہ کپورتھلہ میں موعود اور قادیان دارالامان کے ساتھ کچی محبت کا ایک ایمان افروز واقعہ بیان کرتے ہوئے میں ایک دوکان پر بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شدید ترین دشمن اڈے کی طرف سے آیا اور مجھے کہنے