حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 6 of 21

حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 6

9 8 یہ اخلاص کا کیسا شاندار نمونہ ہے کہ ایک شخص چندے بھی دیتا ہے، قربانیاں بھی کرتا حالت اس قسم کی تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے بکرے کو ذبح کیا جا رہا ہے۔میں کچھ حیران سا طرح میں آہستہ آہستہ کچھ رقم جمع کر کے انہیں پونڈوں کی صورت میں تبدیل کرتا رہا اور میرا ہو گیا کہ یہ رو کیوں رہے ہیں۔مگر میں خاموش کھڑا رہا اور انتظار کرتا رہا کہ وہ خاموش ہوں تو منشا یہ تھا کہ میں یہ پونڈ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کرونگا۔مگر اس سے رونے کی وجہ دریافت کروں۔اس طرح وہ کئی منٹ روتے رہے۔جب میرے دل کی آرزو پوری ہوگئی اور پونڈ میرے پاس جمع ہو گئے تو۔۔۔یہاں تک وہ منشی اروڑے خان صاحب مرحوم نے بہت ہی معمولی ملازمت سے ترقی کی تھی۔پہنچے تھے کہ پھر ان پر رقت کی حالت طاری ہو گئی اور وہ رونے لگ گئے۔آخر روتے روتے پہلے کچہری میں وہ چپڑاسی کا کام کیا کرتے تھے پھر اہل مد کا عہدہ آپ کو مل گیا اس کے بعد انہوں نے اس فقرے کو اس طرح پورا کیا کہ جب پونڈ میرے پاس جمع ہو گئے تو حضرت مسیح نقشہ نویس ہو گئے۔پھر اور ترقی کی تو سرشتہ دار ہو گئے۔اس کے بعد ترقی پاکر نائب موعود علیہ السلام کی وفات ہوگئی۔تحصیلدار ہو گئے اور پھر تحصیلدار بن کر ریٹائر ہوئے۔ابتدا میں انکی تنخواہ دس پندرہ روپے سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔ہے۔مہینہ میں ایک دفعہ نہیں ، دو دفعہ نہیں بلکہ تین تین دفعہ جمعہ پڑھنے کے لئے قادیان پہنچ جب ان کو ذرا صبر آیا تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ روئے کیوں ہیں۔وہ کہنے جاتا ہے۔سلسلہ کے اخبار اور کتابیں بھی خریدتا ہے۔ایک معمولی سی تنخواہ ہوتے ہوئے جب لگے میں غریب آدمی تھا مگر جب بھی مجھے چھٹی ملتی پھر قادیان آنے کے لئے چل پڑتا کہ آج اس تنخواہ سے بہت زیادہ تنخواہیں وصول کرنے والے اس قربانی کا دسواں بلکہ بیسواں تھا۔سفر کا بہت ساحصہ میں پیدل ہی طے کرتا تھا تا کہ سلسلہ کی خدمت کے لئے کچھ پیسے پیچ حصہ بھی قربانی نہیں کرتے۔اس کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ امیر لوگ جب حضرت مسیح جائیں مگر پھر بھی روپیہ ڈیڑھ روپیہ خرچ ہو جاتا یہاں آکر جب میں امراء کو دیکھتا کہ وہ موعود علیہ السلام کی خدمت میں سونا پیش کرتے ہیں تو میں ان سے پیچھے کیوں رہوں۔چنانچہ سلسلہ کی خدمت کے لئے بڑا روپیہ خرچ کر رہے ہیں تو میرے دل میں خیال آتا کہ کاش وہ ایک نہایت ہی قلیل تنخواہ میں سے ماہوار کچھ رقم جمع کرتا اور ایک عرصہ دراز تک جمع کرتارہتا میرے پاس بھی روپیہ ہو اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بجائے چاندی ہے۔نہ معلوم اس دوران میں اس نے اپنے گھر میں کیا کیا تنگیاں برداشت کی ہوں گئی۔محض کا تحفہ لانے کے سونے کا تحفہ پیش کروں۔آخر میری تنخواہ کچھ زیادہ ہوگئی (اس وقت انکی اس لئے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں اشرفیاں پیش کر سکے۔مگر جب اس تنخواہ شاید میں پچیس روپیہ تک پہنچ گئی تھی ) اور میں نے ہر مہینے کچھ رقم جمع کرنی شروع کی خواہش کے پورا ہونے کا وقت آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی حکمت اس کو اس رنگ میں خوشی کر دی اور میں نے اپنے دل میں یہ نیت کی کہ جب یہ رقم اس مقدار تک پہنچ جائے گی جو حاصل کرنے سے محروم کر دیتی ہے جس رنگ میں وہ اسے دیکھنا چاہتا تھا۔“ میں چاہتا ہوں تو میں اسے پونڈوں کی صورت میں تبدیل کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں نے مرزا صاحب کی شکل دیکھی ہے وہ جھوٹے نہیں ہو سکتے کی خدمت میں پیش کروں گا۔پھر کہنے لگے جب میرے پاس ایک پونڈ کے برابر رقم جمع ہو حضرت مصلح موعود حضرت منشی اروڑے خان کا ذکر جاری رکھتے ہوئے آپ کی گئی تو وہ رقم دے کر میں نے ایک پونڈ لے لیا۔پھر دوسرے پونڈ کے لئے رقم جمع کرنی حضرت مسیح موعود کے ساتھ محبت اور کامل ایمان کے بارہ میں فرماتے ہیں: شروع کر دی اور جب کچھ عرصہ کے بعد اس کے لئے رقم جمع ہوگئی تو دوسرا پونڈ لے لیا۔اسی میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ منشی اروڑے خان مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ مجھے بعض